خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 199

خطبة الهامية ١٩٩ اردو ترجمہ۔الذي هو يوم سادس من أيام پس یقینا حقیقی ختمیت چھٹے ہزار میں مقدر تھی جو الرحمن، ليشابه أبا البشر کہ خدائے رحمن کے دنوں میں سے چھٹا دن من كان هو خاتم نوع الإنسان ہے۔تا کہ جو نوع انسان کا خاتم ہے وہ و اقتضت مصالح أخرى أن يُبعث ابوالبشر ( آدم ) سے مشابہ ہو جائے۔نیز رسولنا في اليوم الخامس۔أعنى بعض دیگر مصلحتوں نے تقاضا کیا کہ ہمارے في الألف الخامس بعد آدم، لما رسول (ﷺ ) پانچویں دن میں یعنی آدم الله بقية الحاشية ـ الاحمدية بقیہ حاشیہ۔پر بیس برس سے زائد مدت گزر وقــدمـضـى عليه ازيد من عشرین چکی ہے۔اللہ نے میری طرف وحی کی تھی سنة من المدة فان الله كان اوحى کان اوحی اور فرمایا تھا کہ ہر برکت محمد اللہ کی طرف الى وقال: كل بركة من سے ہے۔پس بڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم دی اور جس نے تعلیم پائی۔یعنی نبی ﷺ نے فتبارك من علم و تعلم یعنی ان اپنی روحانیت کی تاثیر سے تیری تعلیم کی ہے النبي صلى الله علمک من اور تیرے دل کا جام آپ نے اپنی رحمت تاثیر روحانيته و افاض اناء قلبک کے فیض سے لبریز کر دیا ہے تا کہ تجھے اپنے بفيض رحمته لید خلک فی صحابہ میں شامل فرما لیں اور تجھے اپنی برکت صحابته ولیشر کک فی برکته میں شریک فرما ئیں اور تا کہ اللہ کی وَآخَرِينَ وليتم نبأ الله وآخرين منهم بفضله مِنْهُمُ والی پیشگوئی اس کے فضل اور احسان ومنته۔ولما كان هذا النبأ الاصل سے پوری ہو جائے۔اور چونکہ یہ پیشگوئی المحكم والبرهان الاعظم علی قرآن میں مذکور دعوی کی محکم بنیاد اور اس پر دعوى في القرآن اشار الله سبحانه برهان اعظم تھی اس لئے اللہ سُبحَانَہ نے اس اليه في البراهين ليكون ذکره کی طرف براہین احمدیہ میں اشارہ فرما دیا تا هذا حجة على الاعداء من جهة کہ اس کا یہ ذکر طوالت زمانہ کے اعتبار سے دشمنوں پر حجت ہو۔منه طول الزمان منه