خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 192

خطبة الهامية ۱۹۲ اردو ترجمہ للمتقين ۔ ثم اعلم أن هذا التضاد میں متقیوں کے لئے ایک نشان ہے ۔ پھر بين آدم والمسيح الموعود ليس واضح ہو کہ آدم اور مسیح موعود کے درمیان مخفيا ومن النظريات، بل هو یہ تضاد مخفی یا محض نظر یہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک أظهر الأشياء ومن أجلى واضح ترین بات اور روشن ترین بدیهیات البديهيات ۔ فإن آدم أتى ليخرج میں سے ہے ۔ آدم اس لئے آیا تھا تا نفوس النفوس إلى هذه الحياة الدنيا کو اس دنیاوی زندگی کی طرف نکال لائے وليوقد بينهم نار الاختلاف اور ان کے درمیان اختلاف اور عداوت کی والمعاداة ، وأتى مسيح الأمم آگ بھڑکائے ۔ جب کہ تمام امتوں کا مسیح ليردهم إلى دار الفناء، ويرفع اس لئے آیا ہے تا انہیں پھر فنا کے گھر کی من بينهم الاختلاف والتشاجر طرف لوٹا دے اور ان کے درمیان سے والشحناء ، وأصل التفرقة اختلاف، باہمی جھگڑے اور دشمنی کو اور والشتات، ويجرهم إلى تفرقہ اور انتشار کی اصل کو اٹھا دے اور الاتحاد والمحوية ونفي انہيں اتحاد ، فنا ، نفی غیر اللہ اور خالص دوستی الغير والمصافاة ۔ وإن المسیح کی طرف لے آئے ۔ مسیح موعود اللہ کے مظهر لاسم الله الذي هو خاتم نام الْآخِرُ کا مظہر ہے جو کہ سلسلہ مخلوقات کا سلسلة المخلوقات، أعنى خاتم ہے ۔ جس کی طرف ارشادِ خدا ندوی الآخر الذي أُشير إليه في قوله هو الآخِرُ میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ تعالى "هُوَ الآخِرُ لما هو علامة نام کا ئنات کی انتہا کی علامت ہے اس لئے لمنتهى الكائنات، فلاجل ذالک مسیح کے نفس نے موت کے ذریعہ سلسلۂ اقتضت نفس المسيح ختم کثرت کے خاتمہ کا تقاضا کیا یا متعدد سلسلة الكثرة بالممات، أو بِرَدّ مذاہب کو ایک ایسے دین کی طرف واپس المذاهب إلى دين فيه موتُ لے آنے کا تقاضا کیا جس میں خواہشات