خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 190

خطبة الهامية ۱۹۰ اردو ترجمہ قويهم ضعيفهم كدودة تأكل انہوں نے چاہا کہ ان میں سے طاقتور کمزور کو دودة أخرى وكانوا غافلين۔ حتى کھا جائے جیسا کہ ایک کیڑا دوسرے کیڑے کو إذا اجتمعت فيهم كل ضلالة کھا جاتا ہے اور وہ غافل تھے ۔ یہاں تک کہ كانت من لوازم زمن المسيح جب ان میں ہر وہ گمراہی ، جمع ہو گئی جو زمانہ الموعود، وصبّت على الإسلام مسیح موعود کے لوازم میں سے تھی اور اسلام پر كل مصيبة، وصار كالحی ہر قسم کی مصیبت ٹوٹ پڑی اور وہ زندہ درگور الموء ود، وبلغت الأيام منتهاها کی طرح ہو گیا ۔ زمانہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور وصارت كالليالي في الظلمات، تاریکیوں میں راتوں کی مانند ہو گیا اور زمانہ واقتضى الزمان حربًا ھی آخر نے اس جنگ کا تقاضا کیا جو جنگوں میں سے المحاربات۔ فهناك أرسل الله آخری ہے ۔ پس اس وقت اللہ نے ا اللہ نے اپنے مسیح مسيحـه لـهــذه الحرب، ليجلو کو اس جنگ کے لئے بھیجا تا کفر کی ظلمات کو کافور غياهب الكفر ويدمر الظالمین کر دے اور ظالموں کو نیزے اور تلوار کے وار بالحجة لا بالطعن والضرب سے نہیں بلکہ حجت کی رو سے نابود کر دے اور ويقطع دابر الكافرين، وليرجع تا کافروں کی جڑ کاٹ دے اور تا لوگ باہم الناس إلى الاتحاد والمحوية بعد مخالف ہو جانے کے بعد پھر اتحاد اور فنا کی ☆ الحاشية ۔ كان الله قد قدر من حاشیہ ۔ اللہ نے ازل سے ہی یہ مقدر فرما الازل ان تقع الحرب الشدید رکھا تھا کہ شیطان اور انسان کے مابین دو مرتين بين الشيطان والانسان۔ مرتبہ سخت جنگ ہوگی ۔ ایک مرتبہ شروع زمانہ مرة في اول الزمن و مرة فی میں اور دوسری مرتبہ آخری زمانہ میں ۔ پس اخر الزمان۔ فلما جاء وعد اولهما جب ان دو جنگوں میں سے پہلی کا وقت آیا تو اغوى الشيطان الذي هو ثعبان شیطان نے ، جو قدیمی اژدھا ہے ، حوا کو قديم حواء ۔ واخرج ادم من الجنة گمراہ کر دیا اور آدم کو جنت سے نکلوا دیا اور ونال ابليس مرادا شاء۔ وكان من ابلیس نے اپنی من چاہی مراد کو پالیا اور غالب