خطبة اِلہامِیّة — Page 182
خطبة الهاميه ۱۸۲ اردو ترجمہ تَهُبُّ رِيَاحٌ عَاصِفَاتٌ كَأَنَّهَا سِبَاعٌ بِأَرْضِ الْهِنْدِ تَعْوِی وَ تَزْءَ رُ تند ہوائیں اس طرح چل رہی ہیں گویا کہ وہ ہند کی سرزمین میں درندے ہیں جو شیخ اور دھاڑ رہے ہیں۔أَرَى الْفَاسِقِيْنَ الْمُفْسِدِينَ وَ زُمَرَهُمُ وَقَلَّ صَلَاحُ النَّاسِ وَالْغَيُّ يَكْثُرُ میں بدکار مفسدوں اور ان کے گروہوں کو ہی دیکھ رہا ہوں اور لوگوں کی نیکی کم ہوگئی اور گمراہی بڑھ گئی ہے۔أَرى عَيْنَ دِينِ اللَّهِ مِنْهُمْ تَكَدَّرَتْ بِهَا الْعِيْنُ وَالْأَرَامُ تَمْشِي وَ تَعْبُرُ میں دیکھتا ہوں کہ اللہ کے دین کا چشمہ ان کی وجہ سے مکدر ہو گیا ہے اور اس میں نیل گائے اور ہرن چل رہے ہیں اور اسے عبور کر رہے ہیں ( یعنی اس کا والی وارث کوئی نہیں رہا ) أَرَى الذِيْنَ كَالْمَرْضَى عَلَى الْأَرْضِ رَاغِمًا وَكُلُّ جَهُولٍ فِي الْهَوَى يَتَبَخْتَرُ میں دین کو مریضوں کی طرح زمین پر خاک آلود پاتا ہوں اور ہر ایک جاہل ہوائے نفس میں مٹک مٹک کر چل رہا ہے۔وَمَاهَمُّهُمُ إِلَّا لِحَقِّ نُفُوسِهِمْ وَمَاجُهُدُهُمْ إِلَّا لِعَيْشِ يُوَفَّرُ اور ان کا تمام فکر ان کے حفظ نفس کے لئے ہی ہے اور ان کی ساری کوشش صرف ایسی عیش کے لئے ہی ہے جسے بڑھایا جائے۔نَسُوا نَهُجَ دِينِ اللَّهِ حُبُنًا وَّ غَفَلَةً وَقَدْ سَرَّهُمْ بَغَى وَفِسْقٌ وَ مَيْسِرُ وہ خباثت اور غفلت سے اللہ کے دین کی راہ کو بھول گئے ہیں اور انہیں سرکشی، بدکاری اور قمار بازی پسند آ گئی ہے۔فَلَمَّا طَغَى الْفِسْقُ الْمُبِيدُ بِسَيْلِهِ تَمَنَّيْتُ لَوُكَانَ الْوَبَاءُ الْمُتَبِّرُ جب تباہ کن بدی کے سیلاب میں طغیانی آگئی تو میں نے آرزو کی کہ مہلک و با آ جائے۔