خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 181

۲۰۳ خطبة الهاميه ۱۸۱ الْقَصِيدَةُ لِكُلِّ قَرِيحَةٍ سَعِيدَةٍ ہر سعید فطرت کے لئے ایک قصیدہ اردو ترجمہ أَرى سَيْلَ آفَاتٍ قَضَاهَا الْمُقَدِّرُ وَفِي الْخَلْقِ سَيَاتٌ تُدَاعُ وَ تُنْشَرُ میں ان آفات کے سیلاب کو دیکھ رہا ہوں جن کو تقدیر جاری کرنے والے خدا نے مقد ر کیا ہے اور مخلوق میں ایسی برائیاں (موجود) ہیں جو پھیلائی اور نشر کی جارہی ہیں۔وَفِي كُلِّ طَرْفِ نَارُ شَرِّ تَأَجَّجَتْ وَفِي كُلِّ قَلْبٍ قَدْ تَرَائَ التَّحَجُرُ اور ہر طرف آتش فساد و شر بھڑک اُٹھی ہے اور ہر ایک دل میں قساوت ظاہر ہوگئی ہے۔وَقَدْ زُلْزِلَتْ مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ دَوْحَةٌ تُظِلُّ بِظِلُّ ذِي شِفَاءٍ وَتُنْمِرُ اور اس ہوا سے وہ درخت ہل گیا ہے جو شفا بخش اور سایہ دینے والا اور ثمر دار تھا۔ارى كُلَّ مَحْجُوبِ لِدُنْيَاهُ بَاكِيًا فَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْكِي لِدِينِ يُحَقَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ ہر غافل اپنی دنیا کے لئے رو رہا ہے۔پس کون ہے جو دین کے لئے روئے جس کی تحقیر کی جارہی ہے۔وَلِلدِّينِ أَطْلَالٌ أَرَاهَا كَلَاهِفٍ وَدَمْعِى بِذِكْرِ قُصُورِهِ يَتَحَدَّرُ اور دین کے کھنڈرات ہو چکے ہیں جنہیں میں غم زدہ کی طرح دیکھ رہا ہوں اور میرے آنسو اس کے محلات کی یاد میں بہہ رہے ہیں۔تَرَاءَتْ غَوَايَاتٌ كَرِيحٍ مُّحِيْحَةٍ وَارْحَى سَدِيلَ الْغَيِّ لَيْلٌ مُّكَدِّرُ بیخ کنی کرنے والی ہوا کی طرح گمراہیاں ظاہر ہو گئی ہیں اور اندھیری رات نے ضلالت کا پردہ لٹکا دیا ہے۔ارى ظُلُمَاتٍ لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَهَا وَذُقْتُ كُتُوسَ الْمَوْتِ اَوْكُنتُ أَنْصَرُ میں تاریکیاں دیکھتا ہوں۔کاش میں ان سے پہلے ہی مرجاتا اور موت کے پیالے چکھ لیتا یا پھر میں نصرت دیا جاتا۔