خطبة اِلہامِیّة — Page 180
خطبه الهاميه ۱۸۰ ارد و ترجمه أنه ما أوصى إلا لرجل كان لم سلام کی وصیت کو ایسے شخص کے لئے فرمایا يره واشتاق إليه۔وما معنى وصيّة ہے کہ اس کو نہیں دیکھا ہے اور اس کے السلام لرجل رآه رسول الله مشتاق رہے اور اُس شخص کے لئے سلام کی صلى الله عليه وسلم غير مرة وصیت کے کیا معنی ہیں جس کو رسول اللہ صلی قبل الوفاة و بعد الوفاة الله علیہ وسلم نے بارہا وفات سے پہلے اور وَسَلَّمَ عليه ليلة المعراج وما وفات کے بعد دیکھا۔اور معراج کی رات فارقه بعد الموت فى وقت من اس پر سلام کہا اور مرنے کے بعد کسی وقت الأوقات۔أكان هذا الأمر غير اس سے جدا نہ ہوئے۔کیا یہ امر بغیر کسی ممكن إلا بواسطة بعض أفراد امت کے آدمی کے واسطہ کے ممکن نہ تھا پس الأمة ؟ ففكّر إن كنتَ ما سوچ اگر دیوانہ نہیں۔کیا تو غور نہیں کرتا کہ مشک طائف من الجنَّة أما جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان ترى أن النبی صلی اللہ علیہ سے چلے گئے تو آنجناب کو حضرت عیسی کی وسلم لما مات تيسر له لقاء ملاقات کا موقعہ ہر وقت ملتا تھا۔اور اس عيسى في كل حين من الأحيان، سے پہلے اسرا کی رات میں آپس میں و قد رأى عيسى ليلة الإسراء ، ملاقات ہوئی تھی اور اس سبب سے سلام کا فكانت أبواب السلام مفتوحةً دروازه بغیر اس زمانہ کے لوگوں کے واسطہ من غير توسط أبناء هذا الزمان کے مفتوح ہو گیا تھا۔پس رسول اللہ کے سلام فلا تجعلُ سَلامَ رسول الله لغواء کو بیہودہ اور لغومت سمجھ اور اس کے معنوں وأمين حق الإمعان ربِّ بَلغُه میں پوری غور سے سوچ۔اے ہمارے سلامًا مِنَّا، وإن هذا خاتمة البيان۔پروردگار ہمارا سلام اس پر بھیج۔