خطبة اِلہامِیّة — Page 178
خطبه الهاميه ۱۷۸ ارد و ترجمه كما كان في الصحابة، أعنى صحابہ کے اندر موجود تھے یعنی مسیح موعود بواسطة المسيح الموعود الذی کے واسطہ سے ، کیونکہ وہ نبی کریم کا مظہر هو مظهر له أو كالحلة۔فقد ثبت يا آنجناب کے لئے حلہ کی مانند ہے۔من هذا النص الصريح من الصحف پس اس نص صریح سے ظاہر ہوا کہ المطهرة أن معراج نبينا كما كان ہمارے نبی کا معراج مکانی اور زمانی مكانيًّا کذالک کان زمانيا، ولا دونوں طرح سے تھا اور اس نکتہ کا يُنكره إلا الذي فقد بصره وصار سوائے اندھے کے اور کوئی انکار نہیں من العمين ولا شك ولا ريب کرتا اور شک نہیں کہ اس آیت کا مفہوم أن المعراج الزماني كان واجبًا واجباً معراج زمانی کو چاہتا تھا۔اور اگر تحقيقا لمفهوم هذه الآية، ولو لم متحقق نہ ہوتا تو اس آیت کا مفہوم باطل يكن لبطل مفهومها كما لا يخفى ہو جا تا۔چنانچہ اس نکتہ کو اہل فکر اور غور على أهل الفكر والدراية، فثبت سمجھتے ہیں۔پس یہاں سے ثابت ہوا کہ مسیح موعود محمدی حقیقت کا مظہر ہے اور ۲۰۰) من هذا أن المسيح الموعود مظهر للحقيقة المحمدية ونازل في الحلل الجلالية جلا لی حلوں میں نازل ہوا ہے۔اسی لئے خدا فلذالک عُدَّ ظهوره عند الله کے نزدیک اس کا ظہور نبی مصطفیٰ کا ظہور ظهور نبيه المصطفی، وعُدَّ زمانه مانا گیا ہے اور اُس کا زمانہ رسول کریم منتهی المعراج الزماني للرسول کے زمانی معراج کا منتہا اور خیر الوریٰ المجتبى، ومنتهى تجلّى روحانية کی روحانی تجلبی کا آخری سرا شمار کیا گیا سیدنا خير الورى، وكان هذا ہے اور جہان کے پروردگار کا یہ پختہ وعدا مؤكّدًا من رب العالمين۔وعدہ تھا۔اور چونکہ مسیح موعود نبی کریم ولما كان المسیح الموعود کے وجود کا آئینہ اور برکات کی اشاعت