خطبة اِلہامِیّة — Page 172
خطبه الهاميه ۱۷۲ ارد و ترجمه الفوق من غير تدبير المدبرین بارش کی طرح فرشتوں کے بازوؤں پر۔كأن المسيح ينزل كالمطر من ہاتھ رکھ کر آسمان سے اُترے گا انسانی السماء واضعا يديه على أجنحة تدبیروں اور دنیاوی حیلوں کے بازوؤں (191) الملائكة لا على أجنحة حِيَلِ پر اس کا ہاتھ نہ ہوگا۔اور اس کی دعوت الدنيا والتدابير الإنسانية، وتَبْلُغُ اور حجت زمین میں چاروں طرف بہت دعوته وحجته إلى أقطار الأرض جلد پھیل جائے گی اس بجلی کی طرح جو ایک بأسرع أوقات كبرق يبدو من سمت میں ظاہر ہو کر ایک دم سے سب طرف جهة فإذا هي مشرقة في جهات چمک جاتی ہے۔یہی حال اس زمانہ میں بقية الحاشية۔الكريم۔اعنى فى بقيد ترجمہ۔سورۃ تحریم میں اور وہ فرمان الہی سورة التحريم۔و هو قوله تعالى یہ ہے۔وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرنَ الَّتِي وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتِي أَحْصَلَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا۔ولا شك ان المراد من الروح ههنا عیسی ابن مریم ہیں۔چنانچہ آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فحاصل الآية ان الله وعد انه يجعل وعدہ فرمایا کہ اس امت میں مسیح بن مریم کو لوگوں میں أخشى الناس من هذه الامة مسیح سے سب سے زیادہ خشیت اختیار کرنے والا بنائے گا ابن مريم و ينفخ فيه روحه بطريق اور اس میں اپنی روح بروزی رنگ میں ڈالے گا اور یہ البروز فهذه وعد من الله في صورة تمثیلی صورت میں مسلمانوں میں سب سے زیادہ متقی روحِنا بلاشبہ روح سے یہاں مراد عیسی بن مریم المثل لأ تقى الناس من المسلمين کے لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے پس غور کر کس طرح اللہ فانظر كيف سمّى الله بعض افراد هذه الامة عيسی بن مریم ولا تکن نے اس امت کے بعض افراد کو عیسی بن مریم کے نام من الجاهلين۔منه سے موسوم کیا ہے اور جاہلوں میں سے نہ بن۔لے اور عمران کی بیٹی مریم کی ( مثال دی ہے) جس نے اپنی عصمت کو اچھی طرح بچائے رکھا تو ہم نے اس (بچے) میں اپنی روح میں سے کچھ پھونکا۔(التحریم : ۱۳)