خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 162

خطبه الهاميه ۱۶۲ ارد و ترجمه لمعارج كمالاتها، ثم كملت و کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تجلّت تلك الروحانية في آخر تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے الألف السادس، أعنى في هذا آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے الحين كما خُلق آدم في آخر اليوم السادس بإذن الله أحسن الخالقين۔تجلی فرمائی جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر و اتخذت روحانية نبينـا خـيـر میں احسن الخالقین خدا کے اذن سے پیدا الرسل مظهرًا مِن أُمته لتبلغ ہوا اور خیر الرسل کی روحانیت نے اپنے كمال ظهورها وغلبة نورها كما ظہور کے کمال کے لئے اور اپنے نور کے كان وعد الله فی الکتاب غلبہ کے لئے ایک مظہر اختیار کیا جیسا کہ المبين۔فأنا ذالک المظهر خدا تعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا الموعود والنور المعهود، فآمِنُ تھا پس میں وہی مظہر ہوں پس ایمان لا ولا تكن من الكافرين۔وإن اور کافروں سے مت ہو اور اگر چاہتا شئت فاقرء قوله تعالى هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ ہے تو اس خدا تعالیٰ کے قول کو پڑھ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولُه آخر آیت كله وفَكِّرُ کالمهتدین تک۔پس یہ اظہار کا وقت اور فهذا وقت الإظهار، ووقت روحانیت کے ظہور کے کمال کا وقت كمال ظهور الروحانية من ہے اے مسلمانوں کی جماعت۔اور الجبار، يا معشر المسلمين۔اسی لئے آثار میں آیا ہے کہ آنحضرت ولأجل ذالك جاء في الآثار أنه صلی اللہ علیہ وسلم چھٹے ہزار میں مبعوث عليه السلام بعث في الألف (19) السادس مع أن بعثه كان في ہوئے حالانکہ آنجناب کی بعثت قطعاً اور لے خداوہ ہے جس نے اپنے رسول کو اس لئے بھیجا کہ تا دینِ اسلام کو سب دینوں پر غالب کر دے۔(الصف: ۱۰)