خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 144

خطبه الهاميه ۱۴۴ ارد و ترجمه۔واجتمع الصحابة حوله وتلا کھڑے ہوئے اور صحابہ ان کے گرد جمع الآية المذكورة وقال اسمعون ہوئے پھر آیت مذکورہ پڑھی اور فرمایا وكانوا مجتمعين كلهم لموت سنو! اور سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ رسول الله صلی الله علیه و سلم علیہ وسلم کی موت پر جمع تھے۔جب یہ آیت فسمعوا وتأثروا بأثر عجيب سن تو عجیب تا شیرا اپنے دلوں میں پائی اور كأن الآية نزلت فی ذالک الیوم سمجھے کہ گویا یہ آیت آج ہی اتری ہے اس وكانوا يبكون ويصدقون۔وما كوسن کر انہوں نے رونا شروع کیا اور بقى أحد منهم في ذالك اليوم تصدیق کی۔اس دن ایسا کوئی شخص نہ رہا إلا أنه آمن بـصميم القلب أن جو اس پر ایمان نہ لایا ہو کہ سارے نبی الأنبياء كلهم قد ماتوا وقد فوت ہو چکے ہیں اب ان کو اپنے رسول کی أدركهم المنون۔فما بقى لهم موت پر کوئی رنج اور غم اور اپنے أسف على موت رسولهم ولا پیارے کے لئے کوئی حسرت اور افسوس محلّ غبطة لحبيبهم، وتنبهوا کی جگہ نہ رہی اور اس کی موت پر خبر دار على موته، وفاضت عيونهم وقالوا إنا لله وإنا إليه راجعون۔وكانوا يتلون هذه الآية في اور آگاہ ہو گئے اور آنسوؤں کے دریا آنکھوں سے بہائے اور سے بہائے اور إِنَّا لِلَّهِ کہا اور۔اس آیت کو گلی کوچوں میں اور گھروں السكك والأسواق والبيوت ويبكون۔وقال حسان بن ثابت میں پڑھتے تھے اور روتے تھے چنانچہ وهو يرثى لرسول الله صلى الله حسّان بن ثابت نے حضرت ابوبکر کے عليه وسلم بعد خطبة أبي بكر خطبہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى کے مرثیہ میں کہا۔تو میری آنکھ کی پتلی تھی فَعَمِيُّ عَلَيْكَ النَّاظِرُ اب تیرے جاتے رہنے سے میں اندھا ہو گیا