خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 113

خطبه الهاميه ۱۱۳ اردو ترجمہ هو آخر الزمان بظهور ،تام بغیر حاجت فکر کے اس کو پہچان رہا ہے۔تعرفها كل نفس من غير الحاجة چنانچہ یہ بات ان لوگوں پر مخفی نہیں جو إلى الإمعان كما لا يخفى على ہمارے زمانہ کے مسلمانوں اور ان کے الذين ينظرون إلى مُسلمى زمننا کاموں کی طرف نظر کرتے ہیں اور ان تین هذا وإلى ما يعملون ولكل فرقة قسم کے وارثوں میں سے ہر ایک فرقہ ء۔من هذه الورثاء الثلاث درجات وارثہ کے تین درجہ ہیں لیکن وہ جو منعم ثلاث۔۔أما الذين ورثوا المنعم عليهم کے وارث ہوئے ان میں سے عليهم فمنهم رجال ما وجدوا بعضوں نے انعام سے حصہ نہ پایا مگر تھوڑا حظهم من الإنعام إلا قليلا من سا حصہ عقائد اور احکام میں سے ان کو ملا الـعـقـائـد أو الأحكام وهم علیه اور اسی پر انہوں نے قناعت کی اور بعض (۱۰۵) يقنعون، ومنهم مقتصدون وإنهم ان میں سے درمیانی چال والے ہیں اور وقفوا على مرتبة الاقتصاد وما وہ اسی اپنی چال پر کھڑے ہو گئے اور يكملون، ومنهم فرد تکمیل اور کمال کے درجہ تک نہیں پہنچے اور اجتباه ربه و كمله و جعله سابقا ان میں سے ایک فرد ہے کہ خدا نے اس کو في الخيرات، وهو يجتبى اليه چنا اور امام بنایا اور نیکیوں میں کامل کیا من يشاء ويخص بالدرجات، اور وہ چن لیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور فذالك المخصوص هو درجوں سے مخصوص کرتا ہے پس وہی المسيح الموعود الذي ظهر في مخصوص وہی مسیح موعود ہے جو اس قوم میں القوم وهم لا يعرفون۔وَأَمَّا ظاہر ہوا اور وہ نہیں پہچانتے اور لیکن جو الذين ورثوا المغضوب عليهم مغضوب عليهم کے وارث ہوئے ان میں من اليهود فمنهم رجال من سے وہ مسلمان ہیں جو خدا کے احکام اور المسلمين شابهوهم فی فرائض کے ترک کرنے میں یہود سے مشابہ ہو