خطبة اِلہامِیّة — Page 106
خطبه الهاميه 1۔4 اردو ترجمہ ذهبوالی اقوال شتی و بوعد مانا ہوا ہے اور قرآن کے وعدہ کو قبول نہیں القرآن لا يؤمنون۔وانه کتاب کرتے اور قرآن ایک ایسی کتاب ہے کہ باطل لا يأتيه الباطل من بين يديه کو اس میں کسی طرف سے راہ نہیں اور کیا ممکن ولا من خلفه وهل يستوى ہے کہ یقین اور گمان برابر ہو جائیں۔اور يستوى| اليقين والظنون۔وان الاحاديث ثابت ہے کہ تمام حدیثیں ایک سو یا دوسو برس كلّها قد جمعت بعد مائة کے بعد جمع کی گئی ہیں اور مسلمانوں کے فرقے او مأتين وان فرق الاسلام فيها ان میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور حقیقت میں يتنازعون۔واما القرآن فلاشبهة قرآن میں کوئی شبہ نہیں اور وہی ہمارے نبی فيه وانه هو الذي نزل صدقًا پر نازل ہوا ہے اور اس کے پاک منہ سے نکلا وحـقـا على نبينا، وخرج من فيه، ہے کیا اس میں تم کو شک ہے پس کس حدیث أأنتم فيه ترتابون؟ فبأي حديث پر قرآن کے بعد ایمان لاتے ہو۔کیا اس بعده تؤمنون۔أتؤثرون الظنّ کتاب کو چھوڑ کر گمان کو اختیار کرتے ہو جس کی شان میں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ الآية اور کہتے عـلـى الـذي قـال الـلـه فـي شـأنـه اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ ، وقالوا إنا وجدنا آبــاء نــا عـلـى طـريق وإنا علی ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو ایک راہ پر پایا آثارهم سالكون۔انظر كيف ہے اور ہم ان کے نقش قدم پر چلیں گے دیکھ کہ کس طرح قرآن کو چھوڑنے کا اقرار کرتے أقروا بترك القرآن، ثم انظر ہیں پھر دیکھ کہ کس طرح لڑتے ہیں اور کہتے ہیں كيف يختصمون۔وقالوا إن الأحاديث قد اتفقت علی کہ حدیثیں ہمارے عقائد کی نسبت متفق علیہ ما اعتقد نا، وإن هم إلا يكذبون ہیں اور وہ صریح اس بات میں جھوٹے ہیں اور وقد علموا أن أكثر أخبار النبي جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لے یقینا ہم نے ہی یہ ذکر اتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔( الحجر :۱۰)