خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 106

۹۴ خطبه الهاميه ١٠٦ اردو ترجمہ ذهبـوالــي اقـوال شتى وبوعد مانا ہوا ہے اور قرآن کے وعدہ کو قبول نہیں القرآن لا يؤمنون وانه کتاب کرتے اور قرآن ایک ایسی کتاب ہے کہ باطل لا يأتيه الباطل من بين يديه کو اس میں کسی طرف سے راہ نہیں اور کیا ممکن ولا من خلفه وهل يستوى ہے کہ یقین اور گمان برابر ہو جائیں ۔ اور اليقين والظنون۔ وان الاحاديث ثابت ہے کہ تمام حدیثیں ایک سو یا دو سو برس كلها قد جمعت بعد مائة کے بعد جمع کی گئی ہیں اور مسلمانوں کے فرقے او مأتين وان فرق الاسلام فيها ان میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور حقیقت میں يتنازعون۔ واما القرآن فلاشبهة قرآن میں کوئی شبہ نہیں اور وہی ہمارے نبی فيه وانه هو الذي نزل صدقًا پر نازل ہوا ہے اور اس کے پاک منہ سے نکلا وحقا على نبينا، وخرج من فيه، ہے کیا اس میں تم کو شک ہے پس کس حدیث أأنتم فيه ترتابون؟ فبأى حديث بعده تؤمنون۔ أتؤثرون الظن على الذي قال الله في شأنه إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ ۔ وقالوا إنا وجدنا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ الآية اور کہتے آباءنا على طريق وإنا علی ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم ان کے نقش قدم پر چلیں گے دیکھ کہ آثارهم سالكون ۔ انظر كيف پر قرآن کے بعد ایمان لاتے ہو۔ کیا اس کتاب کو چھوڑ کر گمان کو اختیار کرتے ہو جس کی شان میں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ أقروا بترك القرآن، ثم انظر کس طرح قرآن کو چھوڑنے کا اقرار کرتے كيف يختصمون ۔ وقالوا إن ہیں پھر دیکھ کہ کس طرح لڑتے ہیں اور کہتے ہیں الأحاديث قد اتفقت علی کہ حدیثیں ہمارے عقائد کی نسبت متفق علیہ مااعتقد نا، وإن هم إلا يكذبون ہیں اور وہ صریح اس بات میں جھوٹے ہیں اور وقد علموا أن أكثر أخبار النبی جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لیے یقینا ہم نے ہی یہ ذکر ا تا را ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ ( الحجر : ۱۰)