خطبة اِلہامِیّة — Page 102
خطبه الهاميه ۱۰۲ اردو ترجمہ ۸۷) من سنن الله انه يرى بعض کی عادتوں میں سے یہ ایک عادت ہے کہ اجزاء نبأه ويُخفى البعض فالذین پیشگوئی کے بعض اجزا کو ظاہر کر دیتا ہے اور بعض کو في قلوبهم زيغ يجعلون ما اختفى مخفی رکھتا ہے پس جن لوگوں کے دل ٹیڑھے متكأ لانكارهم وهم عما ظهر ہوتے ہیں مخفی حصہ کو اپنے انکار کے لئے سند يعرضون۔ ولا يتفكرون لعله فتنة پکڑتے ہیں اور جو حصہ ظاہر ہوا اس سے منہ لهم وقد كثر الامثال فما يقرءون ۔ پھیرتے ہیں اور فکر نہیں کرتے کہ شاید وہ امتحان لا تسلكوا طريقا غير طریق ہو ان کے لئے اور اس جیسے بہت سے واقعات القرآن يا أهل الدهاء ولا تقولوا گزرے لیکن نہیں پڑھتے ۔ اے عقل والو ! ان عيسى نازل من السماء انتهوا قرآن کی راہ کے سوا اور کوئی راہ اختیار مت کرو خيرا لكم أيها المسلمون انکم اور یہ نہ کہو کہ عیسی آسمان سے اترے گا باز آجاؤ اخترتم عقيدة لا نظير لها في یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اے مسلمانو ! تم نے الانبياء وانا اخترنا عقيدةً كثرت تو وہ عقیدہ اختیار کیا ہے جس کی مثال نبیوں نظائرها في الرسل والاصفیاء میں نہیں اور ہم نے وہ عقیدہ اختیار کیا ہے کہ فاي الفريقين احق بالامن رسولوں اور برگزیدوں میں اس کی نظیریں بے ۸۸ واقرب الى الصدق والصفاء شمار ہیں پس ان دونوں فریقوں میں سے امن کا ايها العاقلون۔ ومانزل نبى من حق دار اور صدق وصفا کے نزدیک کونسا ہے اور السماء من قبل فكيف انتم اس سے پہلے کوئی نبی آسمان سے نازل نہیں ہو تم تترقبون۔ وكان اليهود يعتقدون کس طرح انتظار کرتے ہو۔ یہود بھی تمہارے كمثلكم ان الياس ينزل من جیسا اعتقاد رکھتے تھے کہ الیاس مسیح سے پہلے السماء قبل المسيح وكانوا آسمان سے نازل ہوگا اور اس عقیدہ پر عليه يصرون۔ فلماجاء المسيح اصرار کرتے تھے اور جس وقت مسیح آیا اس کی كذبه القوم وقالوا كيف نقبله و تکذیب کی اور کہا اس کو کس طرح قبول کریں