دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 495 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 495

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 495 وو سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کے تمام مسلمان، ہندوستان کے علماء اور مسلم لیگ ، یہ سب اپنے آپ کو امتِ مسلمہ سے علیحدہ رکھنا چاہتے تھے۔ایک مرحلہ پر جب کہ اٹارنی جنرل صاحب نے یہ کہا کہ جو Annexures دیئے جا رہے ہیں وہ بھی پرنٹ ہو کر ممبران کو دیئے جا رہے ہیں۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا:۔صرف ہمیں اندھیرے میں رکھ رہے ہیں۔ہمیں بھی تو ایک کاپی ملنی چاہئیے۔“ اس پر بیٹی بختیار صاحب نے کہا:۔” نہیں آپ تو یہاں بیٹھے ہیں آپ کے سامنے سب کچھ ہوا۔اس پر حضور نے ممبرانِ اسمبلی کے بارے میں فرمایا:۔”یہ نہیں بیٹھے یہاں؟“ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ عذر پیش کیا:۔66 نہیں وہ کمیٹی کا آرڈر ہے۔میں تو۔۔یہ سیکریٹ ہے وہ نہیں چاہتے وہ پبلک۔“ 66 حضور نے فرمایا کہ ہماری طرف سے کمیٹی کو یہ درخواست ہے۔اس پر انہوں نے فرمایا کہ کمیٹی اس پر غور کرے گی۔حقیقت یہ ہے کہ گواہ کا بیان خواہ وہ عدالت میں ہو یا پارلیمنٹ میں طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کو پڑھ کر تسلیم کر کے دستخط کرتا ہے لیکن اس وقت اس طریقہ کو نظر انداز کر کے جماعت کے وفد کو اس کے بیان کا تحریری ریکارڈ دکھایا بھی نہیں جا رہا تھا۔