دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 494
494 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اور خدمات کو پیش کیا گیا۔اس ریزولیشن کی بھر پور تائید میں تقریر کرنے والوں میں ایک نمایاں نام علامہ اقبال کا بھی تھا اور تو اور مولوی حضرات مساجد میں جلسے کر رہے تھے اور یہ اظہار کر رہے تھے کہ ہم پر اپنے بادشاہ اور گورنمنٹ انگلشیہ کی وفاداری لازمی ہے بلکہ بعض علماء نے تو یہ بھی اعلان کیا کہ اگر حکومت منظور کرے تو وہ سب سے پہلے بطور رضا کار میدانِ جنگ میں جانے کو تیار ہیں۔اس وقت جبکہ ابھی ترکی جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا مسلمانوں کی تنظیمیں یہ قرار دادیں منظور کر رہی تھیں کہ ترکی غیر جانبدار رہے لیکن جب ترکی نے جرمنی کے ساتھ مل کر جنگ میں شمولیت کا اعلان کر دیا تو مسلمانوں نے جلسے کر کے اس بات کا واضح اعلان کر دیا کہ اس سے ہندوستان کے مسلمانوں کی وفاداری پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔علاوہ ازیں مسلم لیگ کی طرف سے بھی وائسرائے کو وفاداری کا ریزولیشن بھیجوایا گیا اور اس کے جواب میں وائسرائے نے تار دیا کہ ہمیں ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ ہم تمام حالات میں ہندوستان کے مسلمانوں کی وفاداری پر بھروسہ کر سکتے ہیں (99)۔یہ سب حقائق حکومتِ پاکستان کے ماتحت اداروں کی شائع کردہ کتب میں بھی موجود ہیں۔اس پس منظر کی موجودگی میں یہ اعتراض کہ قادیان میں چراغاں ہوا تھا کہ نہیں ایک مضحکہ خیز اعتراض ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت کی ہمدردیاں انگریز حکومت کے ساتھ تھیں اور اس جنگ میں مسلم لیگ بھی انگریز حکومت کی حمایت کر رہی تھی اور مسلمانوں کو حکومت کا وفادار رہنے کی تلقین کر رہی تھی۔دیوبند کے مہتم انگریزوں کو مخبری بھی کر رہے تھے۔مسلمان بڑی تعداد میں فوج میں شامل ہو کر ترکی کی فوج کے خلاف لڑ رہے تھے اور ان پر گولیاں چلا رہے تھے۔اور ہندوستان کے بہت سے مسلمان اس جنگ میں سلطنت برطانیہ کی طرف سے لڑتے ہوئے مارے بھی گئے۔اگر قادیان میں چراغاں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمدی اپنے آپ کو امتِ مسلمہ سے علیحدہ رکھنا چاہتے تھے تو پھر ان ناقابل تردید شواہد