دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 486
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 486 جب 1914ء میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو مسلمانانِ برِ صغیر کا ردِ عمل کیا تھا، اس کا اندازہ اس مواد سے لگایا جا سکتا ہے جو کہ پنجاب یونیورسٹی کی ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان نے ایک کتاب میں جمع کیا ہے۔جب پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو پنجاب کی Legislative Council نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی۔اس کونسل میں مسلمان ہندو اور سکھ نمائندگان شامل تھے۔اس قرارداد میں یہ درج تھا کہ ہم ایمپائر کے بادشاہ کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہیں اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ ایمپائر کے دشمنوں کے خلاف جو بھی مدد درکار ہو گی یہ صوبہ اس کو فراہم کرے گا۔(A Book of Readings on the History of the Punjab 1799-1947 by Imran Ali Malik, Published by Research Society of the Punjab 1985 p321) جہاں تک مسلمانوں کے علیحدہ رد عمل کا تعلق ہے تو اس کتاب میں اس کے متعلق پہلی خبر یہ درج ہے۔جب پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو لاہور میں مسلمانوں کا ایک جلسہ منعقد ہوا اور منتظمین کی طرف سے اس جلسہ کی غرض یہ بیان کی گئی کہ ” ملکہ معظم جارج پنجم دام اقبالہا کے حضور میں مسلمانان لاہور و پنجاب کی طرف سے اظہارِ وفاداری و عقیدت کیا جائے اور پروردگار عالم کی درگاہ میں سرکار انگلشیہ کی فتح و نصرت کے واسطے دعا کی جائے۔نیز مسلمانانِ پنجاب کی طرف سے گورنمنٹ کو یقین دلایا جاوے کہ مسلمانوں کا ہر فرد و بشر سر کار عالیہ کی ہر قسم کی امداد و خدمت کے واسطے تیار ہے۔“ اس میں ایک قرارداد پیش کی گئی۔اس قرار داد میں کہا گیا تھا کہ :