دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 472 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 472

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 472 اور یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ جیسا کہ جسٹس منیر صاحب نے لکھا ہے کہ ان دو نالوں کے درمیان کا حصہ پاکستان میں ہی شامل کیا گیا تھا۔ایک سوال یہ کیا گیا کہ 1974ء کے فسادات کے دوران حضرت چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے بین الاقوامی تنظیموں سے یہ اپیل کیوں کی تھی کہ وہ پاکستان میں جا کر دیکھیں کہ احمدیوں پر کیا مظالم ہو رہے ہیں۔اب جب کہ اس کارروائی پر کئی دہائیاں گزر چکی ہیں یہ سمجھنا زیادہ آسان ہے کہ یہ سوال بھی خلاف عقل تھا۔خواہ وہ پارٹی ہو جس سے اٹارنی جنرل صاحب وابستہ تھے یا وہاں پر موجود دوسری سیاسی پارٹیاں ہوں ان سب نے بارہا بین الا قوامی تنظیموں سے یہ اپیل کی کہ وہ پاکستان میں آکر دیکھیں کہ وہاں ان پر کیا کیا مظالم ہو رہے ہیں۔کئی اہم مواقع پر بین الا قوامی مبصرین منگوائے گئے ہیں۔کئی مرتبہ ملک کے اندرونی مذاکرات میں بیرونی گروہوں کی اعانت لی گئی ہے۔یہ ایک لمبی اور تکلیف دہ تاریخ ہے اور یہ حقائق معروف ہیں۔بعد میں اسی پیپلز پارٹی نے جس کی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل صاحب سوالات کر رہے تھے، اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اس کی چیئر پرسن اور ملک کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو صاحبہ کے قتل کی تحقیقات کرے حالانکہ اس وقت ملک میں پیپلز پارٹی کی ہی حکومت ہے۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ عجیب نکتہ اٹھایا کہ جب ہندوستان کے مسلمانوں پر ظلم ہوئے اس وقت تو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کوئی اپیل نہیں کی۔اس تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی اعانت کرنے والے ممبرانِ اسمبلی پاکستان کی تاریخ سے زیادہ واقف نہیں تھے۔حقیقت یہ ہے کہ جب آزادی کے وقت فسادات ہوئے اور ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں پر بھی مظالم کئے گئے تو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس کے متعلق آواز بلند کی تھی اور