دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 471
471 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری بعض گروہوں نے اپنے علیحدہ میمورنڈم پیش کئے تھے اور اگر چہ کانگریس نے اپنا میمورنڈم پیش کیا تھا مگر کئی ہندو تنظیموں نے اپنے علیحدہ میمورنڈم اس کی تائید میں پیش کئے تھے۔پھر جسٹس منیر صاحب نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ احمدیوں نے گڑھ شنکر کے مختلف علاقوں کے مختلف اعداد و شمار پیش کئے تھے جس کی وجہ سے مسلم لیگ کا کیس کمزور ہوا تھا۔اب تو جماعت احمدیہ کا میمورنڈم شائع - ہو چکا ہے اور ہر کوئی اس حقیقت کا جائزہ لے سکتا ہے جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں گڑھ شنکر کے اعداد و شمار شامل ہی نہیں تھے۔البتہ مسلم لیگ کی طرف سے گڑھ شنکر کی مذہب وار آبادی کے اعداد و شمار پیش کئے ، گئے تھے اور وہ اس شائع شدہ کارروائی کی دوسری جلد کے صفحہ 556 پر موجود ہیں۔جہاں تک اس دعویٰ کا تعلق ہے کہ جماعت احمدیہ کے میمورنڈم سے کانگریس کو علم ہوا تھا کہ بین اور بسنتر نالہ کے درمیان غیر مسلموں کی اکثریت ہے تو یہ دعویٰ ہی مضحکہ خیز ہے کیونکہ اس کارروائی کا سرسری مطالعہ ہی بتا دیتا ہے کہ کانگریس کو بخوبی علم تھا کہ کہاں کہاں کون سا گروہ اکثریت میں ہے۔البتہ اس کارروائی کی تیسری جلد کے صفحہ 201 پر جسٹس مہر چند کے فیصلے میں اس علاقے کے حوالے سے جماعت احمدیہ کے جمع کرائے گئے نقشہ کا حوالہ ہے اور جماعت احمدیہ نے یہ نقشہ اس لئے پیش کیا تھا کیونکہ جسٹس دین محمد صاحب نے جو کہ مسلم لیگ کے نامزد کردہ بیج تھے انہوں نے جماعت احمدیہ کے وکیل مکرم شیخ بشیر احمد صاحب سے کہا تھا کہ وہ یہ نقشہ کمیشن میں جمع کرائیں جس میں مختلف مذاہب کی اکثریت والے متصل علاقے دکھائے گئے ہوں۔اب کسی طرح بھی اس پر جماعت احمدیہ کو متہم کرنا ایک خلاف عقل بات ہے۔ورنہ جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں تو صرف یہ نکتہ اُٹھایا گیا تھا کہ ضلع ، تحصیل یا اس سے کوئی بھی چھوٹا یونٹ لے لیں قادیان پاکستان کے مسلم اکثریت علاقہ سے متصل ہے اور اسے پاکستان میں شامل ہونا چاہیئے۔یہ نقشہ تو جسٹس دین محمد صاحب کے کہنے پر جمع کروایا گیا تھا