دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 262 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 262

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 262 اور دلچسپ بات یہ ہے کہ باؤنڈری کمیشن کی کارروائی کا مکمل ریکارڈ تو حکومت پاکستان کی اپنی تحویل میں ت ہو گئی تھا اور بعد میں جب حکومتِ پاکستان نے یہ کارروائی شائع کی تو یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو کہ 1974ء کی کارروائی میں اٹارنی جنرل صاحب نے ایک انگریزی جریدہ کے حوالہ سے جو الزام لگایا تھا وہ بالکل غلط تھا۔اور انہیں اس بات کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی کہ وہ اس مسئلہ پر ایک غیر معروف انگریزی جریدہ کا حوالہ پیش کریں، اصل کارروائی تو ان کی حکومت کی اپنی تحویل میں تھی جس کا سرسری مطالعہ ہی اس بات کو ظاہر کر دیتا کہ یہ الزام غلط ہے۔یا تو اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی ٹیم قومی اسمبلی اور قوم کو غلط حقائق پیش کر کے عمداً دھوکہ دے رہے تھے یا پھر انہیں حقائق کی کچھ خبر نہ تھی اور شاید اس سے کوئی دلچسپی بھی نہیں تھی۔ایک اور دلچسپ بات جو یہاں درج کرنی مناسب ہو گی وہ یہ ہے کہ جب ہم نے صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے انٹرویو کیا تو انہوں نے کہا کہ باؤنڈری کمیشن میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں؟ تو چوہدری صاحب نے کہا کہ باقی مسلمان ہمیں۔نہیں سمجھتے قادیانی کہتے ہیں اور گورداسپور اسی لئے گیا تھا۔یہاں ہم بڑے ادب سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اب یہ تمام کارروائی شائع ہو چکی ہے اور ایک ایک لفظ شائع ہوا ہے۔اس طرح کا کوئی واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں تھا اور یہ سوال حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے ہونا ہی کیوں تھا۔وہ تو مسلم لیگ کا کیس پیش کر رہے تھے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مسلم لیگ کے ایماء پر تو شیخ بشیر احمد صاحب پیش ہوئے تھے اور ان سے اس قسم کا سوال جسٹس تیجا سنگھ صاحب نے کیا تھا اور اس کا جو جواب انہوں نے دیا تھا وہ ہم نقل کر چکے ہیں۔اس مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کارروائی کے دوران ارباب حل و عقد ان موضوعات کے متعلق بنیادی حقائق سے بھی بے خبر تھے جن کے متعلق سوالات کئے جا رہے تھے اور یہ صورت حال اس لئے بھی زیادہ افسوسناک ہو جاتی ہے کہ یہ ریکارڈ حکومت کی