دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 254
254 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری حقیقی اور مجازی کی اس تشریح کو سمجھنے کے بعد حضرت صاحب کے اس فقرہ کو لو کہ میں مجازی طور پر نبی ہوں اور حقیقی طور پر نبی نہیں ہوں۔اور شریعت اسلام کو دیکھو کہ وہ نبی کسے کہتی ہے اور چونکہ شریعت اسلام قرآن کریم ہی ہے اسے جب ہم دیکھتے ہیں تو اس میں نبی کی تعریف یہی معلوم ہوتی ہے کہ جس شخص پر کثرت سے اظہار غیب ہو اور انداری اور تبشیری رنگ اس کی پیشگوئیوں میں پایا جائے۔اب یہ دونوں باتیں حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہیں۔اور تیسری یہ بات بھی موجود ہے کہ اللہ تعالی نے آپکا نام نبی رکھا۔پس شریعت اسلام نبی کے جو معنے کرتی ہے، اسکے معنے سے حضرت صاحب ہر گز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ہاں حضرت مسیح موعود نے لوگوں کو اپنی نبوت کی قسم سمجھانے کیلئے اصطلاحی طور پر نبوت کی جو حقیقت رار دی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ شریعت جدیدہ لائے۔اس اصطلاح کے رُو سے حضرت مسیح موعود ہر حقیقی نبی نہیں ہیں بلکہ مجازی نبی ہیں یعنی کوئی جدید شریعت نہیں لائے۔66 "حقيقة النبوت حصہ اول از حضرت مصلح موعود - اشاعت 1925 ء۔صفحہ 174-173) حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا کہ اس کتاب میں اصل عبارت یہ لکھی ہے کہ اگر حقیقہ کے معنی شرعی نبی کئے جائیں تو میں آپ کو حقیقی نبی نہیں مانتا لیکن اگر حقیقی کے مقابلہ پر بناوٹی رکھا جائے تو میں آپ کو بناوٹی نبی نہیں مانتا۔اس جواب سے یہ صاف ظاہر تھا کہ اس حوالہ کو پیش کر کے مخالفین جو مطلب نکالنا چاہتے تھے وہ مطلب اس عبارت سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔اس کے بعد بھی سوالات کرنے والے احباب کا ستارہ گردش میں ہی رہا۔اٹارنی جنرل صاحب نے ثابت کرنے کے لئے کہ احمدیوں کے نزدیک نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآنِ کریم سے علیحدہ ایک نئی شریعت لے کر آئے ہیں، ایک حوالہ پڑھنا شروع کیا اور اس حوالہ میں یہ عبارت پڑھ گئے۔