دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 255
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 255 وو۔۔۔ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی علیه تیم خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور معمول کے ذریعہ یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو جھوٹی گواہی نہ دو زنا نہ کرو خون نہ کرو ظاہر ہے ایسا بیان شریعت ہے جو مسیح موعود کا بھی کام ہے۔۔۔66 ت میں واضح طور پر نئی شریعت کی تردید تھی ، یہ صرف تجدید احکام کا ذکر تھا۔اس پر اب اس عبارت میں حضور نے فرمایا کہ یہ تو بہت واضح ہو گیا ہے۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب کو اس دلیل کو ترک کر کے دوسرا موضوع شروع کرنا پڑا۔اس کے بعد 29 / جنوری یا 26 / جنوری کے اُس پر اسرار حوالہ کا ذکر شروع ہوا جس کی فرضی ٹوٹی پھوٹی عبارت ایک روز قبل پڑھی گئی تھی۔7/ اگست کی کارروائی میں یہ حوالہ 29/ جنوری 1915ء کا بنا ہوا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک مرتبہ پھر اس حوالے کی عبارت دہرائی۔حضور نے فرمایا کہ اس روز تو الفضل شائع ہی نہیں ہوا تھ۔اصولا تو سوال پیش کرنے والوں کے پاس حوالہ یا ثبوت ہونا چاہئے تھا لیکن اب ان کے لیے عجیب صورت حال پیدا ہوئی تھی کہ جس روز کے الفضل کا وہ حوالہ اتنے فخر سے پیش کر رہے تھے،اس روز تو الفضل شائع ہی نہیں ہوا تھا۔کیونکہ اس دور میں الفضل روزانہ شائع نہیں ہوتا تھا۔اب اپنی خفت کو نے کے لیے اٹارنی جنرل صاحب نے ایک اور ذہنی قلابازی کھائی اور فرمایا کہ 19 جنوری میں یا کسی اور شمارہ میں یہ چھپا ہو گا۔ان کی یہ عجیب و غریب دلیل پڑھ کر تو ہنسی آتی ہے۔یہ صاحب قومی اسمبلی کی ایک اہم کمیٹی میں ایک حوالہ پیش کر رہے تھے اور دو روز میں ایک سے زائد مرتبہ پیش کر چکے تھے۔اور علماء کی ایک ٹیم اس کام میں ان کی اعانت کر رہی تھی اور اس حوالہ کی بنا پر وہ اپنے زعم میں جماعت احمدیہ کے خلاف کیس مضبوط کر رہے تھے اور ابھی انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ حوالہ کس تاریخ کا تھا۔اس پر حضور نے واضح الفاظ میں فرمایا ” نہیں نہیں ، یہ کسی Issue میں نہیں ہے۔کسی حوالہ میں نہیں ہے۔یہ بنایا گیا ہے۔“اس تاریخ