دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 231 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 231

231 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری تردید ہو جاتی۔ایسے فتوے تو سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے۔حقیقت یہ ہے کہ آخر تک اٹارنی جنرل صاحب نے اس تردید کو منظر عام پر لانے کی ضرورت محسوس نہ کی جو مفتی محمود صاحب کے سینے میں ہی دفن رہی۔اس سیشن کے آغاز میں اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر یہ سوال اُٹھایا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا تھا؟ اس کے جواب میں حضرت خلیفة المسیح الثالث نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا ایک بیان پڑھ کر سنایا جو کہ انہوں نے 1953ء کی تحقیقاتی عدالت میں دیا تھا اور وہ یہ تھا کہ ”قائد اعظم کا جنازہ شبیر احمد عثمانی صاحب نے پڑھایا تھا اور وہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو احمدی ہونے کی وجہ سے مرتد سمجھتے تھے۔اس وجہ سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ان کی اقتداء میں نماز جنازہ نہیں پڑھی۔“ اس کے بعد پھر کفر و اسلام ، دائرہ اسلام سے خارج کون ہے ؟ اور ملت اسلامیہ کا فرد کون ہے؟ جیسے موضوعات پر پرانی بحث کا اعادہ ہوں شام چھ بجے تک جو کارروائی ہوئی اس کے متعلق جیسا کہ بعد میں سپیکر صاحب نے کہا کہ جنرل اگزامینیشن ختم ہو گیا ہے اور حوالہ جات دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔یہ ایک نہایت اہم مرحلہ کا آغاز ہو رہا تھا لیکن اس مرحلہ پر پہنچ کر اٹارنی جنرل صاحب نے جو سوالات کیے یا یوں کہنا چاہئے کہ ممبران میں سے جو جماعت کے مخالف مولوی حضرات تھے انہوں نے جو سوالات انہیں لکھ کر دیئے تا کہ وہ یہ سوالات حضرت خلیفة المسیح الثالث " کے سامنے رکھیں ، ان کے حوالہ جات میں عجیب افرا تفری کا عالم تھا۔جماعت احمدیہ کے وفد کو تو یہ علم نہیں تھا کہ کیا سوالات کیے جائیں گے۔دوسرا فریق سوالات کر رہا تھا۔یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اگر سوال کرنے والا کسی کتاب کا حوالہ پیش کرے تو یہ اس کا فرض ہے کہ وہ کتاب کا صحیح نام ،مصنف کا نام صفحہ نمبر اور مطبع خانہ کا نام سن اشاعت وغیرہ بتائے تا کہ جواب دینے والا اصل حوالہ دیکھ کر جواب دے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب اور ان کی اعانت کرنے والے مولوی حضرات نے اس تاریخی کارروائی