دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 207
207 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری نمی کہ وہ ان کے متعلق جماعتی موقف کے مطابق استدلال پیش کرے۔اگر سپیشل کمیٹی میں جماعتی وفد کو بلانے کا مقصد صرف یہی تھا کہ وہ ممبران اسمبلی کے غیر متعلقہ سوالات سنے ان کے تبصرے سنے لیکن ان کے جواب میں اپنا استدلال نہ پیش کرے تو اس لغو عمل کو کوئی بھی ذی ہوش قبول نہیں کر سکتا اور یہ بات اس لئے بھی ناقابل فہم معلوم ہوتی ہے کہ اب تک کی کارروائی میں خود کئی تحریریں پیش کر کے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ دریافت کیا تھا کہ اس کے بارے میں جماعت کے وفد کا نقطہ نظر کیا ہے۔اس کے جواب میں سپیکر صاحب نے صرف یہ کہا کہ حج تو آپ ہی لوگ ہیں اور اٹارنی جنرل صاحب جب چاہیں اس ضمن میں درخواست کر سکتے ہیں۔کچھ دیر کے بعد جماعت کا وفد داخل ہوا۔سپیکر صاحب نے اظہار کیا کہ سوالات کا یہ سلسلہ دو تین دن ہے پوری کارروائی کے لئے حلف ہو چکا ہے یعنی نئے سرے سے گواہ سے حلف لینے کی ضرورت جاری سکتا اس کارروائی کے آغاز میں حضرت خلیفة المسیح الثالث نے گزشتہ روز کی بحث کے تسلسل میں سلف صالحین کے حوالے سے یہ بات فرمائی کہ کفر دو قسم کا ہے ایک کفر وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے نکالنے کا باعث ہو گا اور دوسرا وہ جو ملت اسلامیہ سے باہر نکالنے کا باعث نہیں ہو گا۔اور یہ بھی فرمایا کہ جماعت احمدیہ کی طرف کبھی نہیں کہا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے وہی پرانے اعتراضات دہرائے جو عموماً جماعت کے مخالفین کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔یعنی احمدی غیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھتے ، ان سے شادیاں نہیں کرتے۔ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا۔اب ذرا تصور کریں کہ یہ کارروائی 1974ء کے فسادات کے دوران ہو رہی تھی جبکہ خود اخبارات لکھ رہے تھے کہ علماء کی تحریک کے نتیجہ میں پاکستان بھر میں احمدیوں کا بائیکاٹ شروع ہو گیا ہے اور ان دنوں میں احمدیوں کا جنازہ پڑھنا تو دور