دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 199
199 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری بریلوی مسلک کے قائد احمد رضا خان صاحب نے مسلمانوں کے کئی فرقوں کو یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی بدتر قرار دیا ہے اور واضح طور پر مرتد قرار دیا ہے۔یہاں تک کہ ان کا فتویٰ تھا کہ یہودیوں کے ہاتھ کا ذبیحہ تو حلال ہے لیکن مسلمانوں کے کئی فرقوں کے ہاتھ کا ذبیحہ حرام اور نجس ہے۔ان کے فتوے کے الفاظ ہیں:۔"یہودی کا ذبیحہ حلال ہے جب کہ نام الہی عرب جلالہ لے کر ذبح کرے۔یونہی اگر کوئی واقعی نصرانی ہو نہ نیچری دہر یہ جیسے آج کل کے عام نصاریٰ ہیں کہ نیچری کلمہ گو مدعی اسلام کا ذبیحہ تو مردار ہے نہ کہ مدعی نصرانیت کا رافضی تبرائی ، وہابی دیوبندی ، وہابی غیر مقلد ، قادیانی ، چکڑالوی، نیچری، ان سب کے ذبیحے محض نجس و مردار قطعی ہیں۔اگر چہ لاکھ بار نام الہی لیں اور کیسے ہی متقی پرہیز گار بنتے ہوں کہ یہ سب مرتدین ہیں۔ولا حرام ذَبِيحَةَ لِمُرْتَةٌ۔66 (احکام شریعت۔ص 138 - تصنیف احمد رضا خان بریلوی صاحب۔ناشر ممتاز اکیڈمی لاہور ) پھر احمد رضا خان بریلوی صاحب مسلمانوں کے کئی فرقوں پر مرتد اور کافر ہونے کا فتویٰ ان الفاظ میں لگاتے ہیں۔وو "۔۔مرتدوں میں سب سے خبیث تر مرتد ،منافق ، رافضی ، وہابی ، قادیانی ، نیچری چکڑالوی کہ کلمہ پڑھتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ، نماز وغیرہ افعال اسلام بظاہر بجا لاتے بلکہ وہالی وغیرہ قرآن و حدیث کا درس دیتے لیتے اور دیو بندی کتب فقہ کو ماننے بھی شریک ہوتے بلکہ چشتی، نقشبندی وغیرہ بن کر پیری مریدی کرتے اور علماء و مشائخ کی نقل اتارتے اور بائیں ہمہ محمد رسول اللہ صلی علیم کی توہین کرتے یا ضروریات دین سے کسی شے کا