دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 58
58 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اسی جریدہ نے کانفرنس کے بعد اس بات پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا کہ جب شاہ فیصل شاہی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے آئے تھے تو انہوں نے پہلے دور کعت تحیۃ المسجد نماز ادا کی تھی اور اس کے بعد جب انہوں نے طویل اور رقت سے بھری ہوئی دعا کی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اور انہوں نے ان آنسوؤں کو پونچھا تھا۔اور لاکھوں لوگوں نے اس منظر کوئی وی پر دیکھا تھا اور اس سے ان پر بہت اثر ہوا تھا۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جب دوبارہ یہ مناظر ٹی وی پر دکھائے گئے تو رقت پیدا ہونے والا اور آنسو پونچھنے والا منظر کاٹ دیا گیا جس پر سب کو بہت صدمہ ہوا۔اور اس جریدہ نے بہت اصرار سے لکھا کہ یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت کیا گیا ہے تا کہ اسلامی ذوق ابھر نہ سکے۔(المنبر 1 تا 8 / مارچ 1974ء) پھر اسی جریدے نے اسلامی سربراہی کا نفرنس کے اختتام پر لکھا کہ پہلے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ شاہ فیصل کا نفرنس کے موقع پر شاہی مسجد لاہور میں جمعہ پڑھائیں لیکن پھر ایک طبقہ کی طرف سے یہ مسئلہ اُٹھایا گیا کہ چونکہ شاہ فیصل وہابی عقیدہ کے ہیں اس لئے ان کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی۔پھر اس مسئلہ پر مختلف لوگوں کی طرف سے تاریں دی گئیں۔جب یہ چیز شاہ فیصل کے علم میں آئی تو انہوں نے جمعہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔پھر اس جریدے نے احمدیوں کے خلاف یہ لکھ کر زہر اگلا کہ یہ سب کچھ احمدیوں اور کمیونسٹوں کی سازش کی وجہ سے ہوا ہے۔(المنبر 29 / مارچ 1974ء) یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑتے۔اگر شاہ فیصل اس وجہ سے شاہی مسجد میں نماز نہیں پڑھا سکے تو اس سے احمدیوں کا کیا تعلق۔انہیں تو کوئی شاہی مسجد میں نماز پڑھنے بھی نہیں دیتا کجا یہ کہ وہ کسی بادشاہ کو وہاں پر نماز پڑھانے سے روکیں۔یہ تلملاہٹ صرف اس بات تک محدود نہیں تھی کہ شاہ فیصل شاہی مسجد لاہور میں نماز جمعہ نہیں پڑھا سکے بلکہ یہ بھی لکھا جارہا تھا کہ یوگینڈا کے عیدی صدر امین نے اپنے اعلان کے مطابق اس کا نفرنس پر شاہ فیصل کو عالم اسلام کا خلیفہ بنانے کی تجویز رکھی تھی لیکن اس پر کماحقہ توجہ نہیں دی گئی جیسا کہ المنبر نے لکھا۔وو پیچھلے سال سے یہ صد اسنائی دے رہی تھی کہ افریقہ کے مرد مجاہد جنرل عیدی امین حفظہ اللہ نے حج کے موقع پر ایک اخباری ملاقات میں یہ کہا تھا کہ عالم اسلام اپنے مسائل کا اگر کوئی حل چاہتا ہے تو اس کا آغاز اس بات سے ہو گا کہ عالم اسلام اپنا