دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 426 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 426

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 426 بات کا ذکر 2008 International Religious Freedom Report میں بھی موجود ہے جو کہ Bureau of Democracy, Human Rights, and Labor نے 2008ء میں شائع کی ہے۔ہر سال کئی مسلمان ( جو کہ احمدی نہیں ہیں) اسرائیل کی فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔خاص طور پر وہ مسلمان جو بدو گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ہر سال خاطر خواہ تعداد میں اسرائیلی فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔2000ء اور 2003ء کے درمیان اسرائیلی فوج میں داخل ہونے والے مسلمانوں میں ساٹھ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔(ملاحظہ کیجیئے Dec 2004 Haaretz 30 انٹرنیٹ پر موجود ہے)۔اور مسلمانوں میں سے ایک صاحب Raleb Majdele کو تو اسرائیلی حکومت میں مرکزی وزیر بھی لگا دیا گیا تھا اور وہ 2009ء تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔کئی سنی مسلمان اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset کے ممبر رہ چکے ہیں اور اب تو ایک سنی خاتون Haneen Zoabi بھی اسرائیلی پارلیمنٹ کی ممبر بن گئی ہیں۔ان حقائق کی موجودگی میں جماعتِ احمدیہ پر یہ اعتراض مضحکہ خیز ہے کہ اسرائیل میں کچھ احمدی کیوں موجود ہیں ، وہاں انہوں نے مسجد اور مشن ہاؤس کیوں بنایا ہوا ہے۔اگر یہ اعتراض ہونا چاہئیے تو دوسرے فرقوں سے وابستہ مسلمانوں پر ہونا چاہیے۔ایک اور نیا نکتہ جو اٹارنی جنرل صاحب نے منکشف فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دہلی کا سفر کیا تو انہوں نے پولیس کی حفاظت کا مطالبہ کیوں کیا؟ پھر خود ہی یحیی بختیار صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور کہا کہ Everybody has right وہ میں نہیں کہہ رہا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ ہماری کتابوں میں ہے کہ پولیس سے Protection نہیں مانگی تھی۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ پولیس نے خود ہی کیا ہو گا۔پولیس کی Protection میں وہ تقریر کیا کرتے تھے۔اٹارنی جنرل صاحب کا ذہنی انتشار نہ جانے اور کیا کرشمے دکھاتا کہ سپیکر صاحب نے کہا کہ مغرب کی نماز کے لیے وقفہ ہوتا ہے۔