دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 382 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 382

382 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اور جب وقفہ کے بعد سوا بارہ بجے کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا تو اٹارنی جنرل صاحب کے سوالات کے آغاز ہی سے یہ بات واضح ہو گئی کہ واقعی انہیں اور ان کے معاونین کو کچھ وقفہ کی ضرورت تھی۔وہ اعتراض یہ اُ ٹھا رہے تھے کہ احمدیوں نے ہمیشہ خود کو مسلمانوں سے علیحدہ رکھا ہے اور اس کی دلیل یہ پیش کر رہے تھے کہ ہر مذہب کے لوگوں نے اپنا علیحدہ کیلنڈر بنایا ہے۔عیسائیوں کا اپنا، مسلمانوں کا اپنا اور ہندوؤں اور پارسیوں کے اپنے اپنے کیلنڈر ہیں، اسی طرح احمدیوں نے بھی اپنا علیحدہ کیلنڈر بنایا ہوا ہے۔گویا تان اس بات پر ٹوٹ رہی تھی کہ اس طرح احمدیوں نے اسلام سے اپنا علیحدہ مذہب بنایا ہوا ہے۔بہت اپنا علیحدہ مذہب بنایا ہوا ہے۔بہت سے پیدائشی احمدی بھی یہ اعتراض پڑھ کر دم بخود رہ گئے ہوں گے ، اس لیے وضاحت ضروری ہے۔معروف اسلامی ہجری کیلنڈر تو قمری حساب سے رائج ہے اور مسلمانوں میں شمسی کیلنڈر کے لیے عیسوی کیلنڈر استعمال ہوتا ہے جو کہ حضرت عیسی کی پیدائش کے سال سے شروع ہوتا ہے۔حضرت خلیفة المسیح الثانی نے ایک ایسا شمسی کیلنڈر تیار کروایا جو کہ رسول کریم على الم کی ہجرت کے سال سے شروع ہوتا تھا۔اور جنوری فروری مارچ وغیرہ نام کی بجائے نئے نام رکھے گئے جو اس ماہ میں ہونے والے ایسے اہم واقعات کی نسبت سے رکھے گئے جو رسولِ کریم صلی ایم کی زندگی میں ہوئے۔مثلاً جنوری کا نام صلح اس نسبت سے رکھا گیا کہ اس ماہ میں صلح حدیبیہ کا واقعہ ہوا تھا، فروری کا نام تبلیغ اس وجہ سے رکھا گیا کہ اس ماہ میں آنحضرت صلی اللہ ہم نے بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھے تھے۔گویا اگر کوئی آنحضرت صلی یم کی محبت میں یہ کہے کہ شمسی کیلنڈر کو حضرت عیسی“ کی پیدائش کی بجائے رسول کریم صلی یم کی ہجرت سے شروع کرنا چاہئے۔اور مہینوں کے نام آنحضرت صلی لی نام کی حیات طیبہ کے واقعات پر رکھنے چاہئیں تو اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ یہ شخص یا یہ جماعت اپنے آپ کو اسلام سے علیحدہ کر رہی ہے اور اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دینا چاہئے۔کوئی ذی ہوش اِس لغو سوچ کی حمایت نہیں کر سکتا۔اس کے علاوہ اگر کیلنڈر دیکھ کر کسی کے مذہب کا فیصلہ کرنا ہے تو پھر عالم اسلام میں تو سب سے زیادہ عیسوی کیلنڈر