دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 35 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 35

35 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری لیکن ہماری نگاہیں اس سب کچھ کے ہوتے ہوئے مغربی تہذیب سے مستعار بنیادی حقوق کے تصورات پر ٹھہرتی ہیں۔اور مغربی تہذیب سے مرعوب ہو کر بنیادی حقوق کے نام سے آئین کی رہی سہی اسلامیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔مثلاً موجودہ بنیادی حقوق میں جنس (مرد ، عورت ) اور مذہب کی تمیز کئے بغیر ہر قسم کی ملازمتوں میں مساوات یہاں تک کہ وہ عدالت کا چیف جسٹس بھی بن سکے ، کلیدی مناسب بھی سنبھال سکے ، عام مجالس اور مقامات میں داخلہ اور مرد و زن کا اختلاط، تقریر و تحریر کی آزادی کے نام پر اخلاقی اور مذہبی اقدار سے بھی آزادی ہر شخص جو چاہے مذہب اختیار کرے، مسلم اور غیر مسلم (اہل ذمہ) مردو زن سب کو تمام شعبہ ہائے حیات میں ایک لاٹھی سے ہانکنا، اس طرح کی بہت سی مثالیں اسلام کے عطا کر دہ حقوق کی نفی کرتی ہیں۔اور آگے چل کر اسلامی قانون کی کئی اہم دفعات اور تقاضوں کے نفاذ کے لئے سدِ راہ بن سکتی ہیں۔مثلاً۔1۔کوئی مسلمان اپنا مذہب تبدیل نہیں کر سکتا۔2۔اسلامی مملکت میں ارتداد اور اس کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔3۔غیر مسلموں پر مخصوص ٹیکس جزیہ لگانے کی گنجائش ہے۔4۔غلامی کے بارہ میں مخصوص حالات میں گنجائش ہے 5۔عورت حدود اور قصاص جیسے معاملات میں حج نہیں ہو سکتی۔6۔نہ اس کی قضا کئی ایسے امور میں معتبر ہے۔7۔نہ حدود اور قصاص میں اس کی شہادت معتبر ہے۔8۔نہ وہ اسلامی سٹیٹ کی سربراہ بن سکتی ہے۔9۔نہ کھلے بندوں مردوں کی تفریح گاہوں اور مخلوط اجتماعات میں آجا سکتی ہے۔10۔دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہے۔11۔غیر مسلم اور ذمی قاضی اور حج نہیں بن سکتا۔12۔نہ وہ اسلامی آئین سازی کرنے والے اداروں مقننہ یا دستور ساز اداروں کا رکن بن سکتی ہے بالخصوص جب اسمبلی کو اس بات کا پابند کیا گیا ہو کہ وہ کتاب و سنت کے مطابق قانون سازی کرے۔اس لئے اسلام ملازمتوں اور انتخابی عہدوں میں امتیاز ناگزیر سمجھتا ہے۔جبکہ موجودہ بنیادی حقوق غیر مسلم اقوام (جو مرتدین کو بھی شامل ہے ) کو نہ صرف صدارت ، وزارت عدلیہ کی سربراہی ، افواج اسلامی کی کمان تک عطا کرنے پر بھی قدغن نہیں لگاتے۔14۔اسلام کی نگاہ میں کلیدی مناسب پر فائز ہونا تو بڑی بات ہے کسی غیر مسلم شہری کی مسلمانوں کے خلاف شہادت بھی معتبر نہیں۔“ (3) گویا ان علماء کے نزدیک صحیح اسلامی نظام تبھی آسکتا تھا جب غلامی کی مشروط اجازت ہو ، حالانکہ اسلام نے غلامی کے ختم کرنے کی ابتدا کی تھی۔عورتوں کو نہ صرف کلیدی عہدوں پر نہ لگایا جائے بلکہ وہ پبلک تفریحی مقامات پر بھی نہیں جا سکتیں۔اور اگر چہ یہ مولوی حضرات جس سے مذہبی اختلاف ہو گا اس کے خلاف تو زہر اگلیں گے لیکن جس کو یہ غیر مسلم