دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 34 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 34

34 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری " نیا آئین اسلامی ہے کہ اس میں پارلیمنٹ کی بالا دستی کے باوجود اسلامی مشاورتی کونسل کو سپریم حیثیت دی گئی ہے۔ہمارے مخالفین بالعموم اور جماعت اسلامی والے بالخصوص پیپلز پارٹی پر یہ الزام لگاتے رہے کہ یہ مرزائی فرقہ کے قائدین کی ہدایات اور اشاروں پر چلتی ہے اور موجودہ حکومت کو ربوہ سے حکم آتے ہیں۔اگر یہ الزام درست ہو تا تو آئین میں اسلامی قوانین کو کیسے اپنایا جا سکتا تھا۔نیز اس آئین میں محمد مصطفے کے نبی آخر الزمان کو بنیاد بنا کر ان شکوک و شبہات کو قطعی طور پر دور کر دیا گیا جن کی آڑ میں پیپلز پارٹی کو ہدف تنقید بنایا جاتا تھا۔" (روز نامہ امروز 21 / اپریل 1973ء ص2) چونکہ پیپلز پارٹی اور خود بھٹو صاحب پر مخالفین کی جانب سے مذہب سے بیزار ہونے کا الزام تھا، اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ اس الزام کا رد کرنے کے لئے اور مخالفین کو خوش کرنے اور ان سے ممکنہ طور پر پیش آنے والے خطرات کا سد باب کرنے کے لئے پیپلز پارٹی نے اس قدم پر رضامندی ظاہر کی ہو۔لیکن تعصب اور تنگ نظری کے دوزخ میں جتنا مرضی ڈالو اس میں سے هَلْ مِنْ مَّزِید کی صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔ایک کے بعد دوسرا نا معقول مطالبہ سامنے آتارہتا ہے۔اور اگر قوم کی تیرہ بختی سے حکومت ان کے آگے جھکنے کا راستہ اپنا لے تو پھر یہ عفریت معاشرے کی تمام عمدہ قدروں کو نگل جاتا ہے۔بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی کے دیگر قائدین کی یہ بھول تھی کہ وہ اس طرح تنگ نظر گروہ کو خوش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔یا جیسا کہ ہم بعد میں اس امر کا جائزہ لیں گے اگر یہ سب کچھ کسی بیرونی ہاتھ کو خوش کرنے کے لئے کیا جارہا تھا تو یہ خیال محض خوش فہمی تھی کہ یہ بیرونی ہاتھ اسی پر اکتفا کرے گا اور پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔آئین کو بنے ابھی ایک ماہ بھی پورا نہیں ہو ا تھا کہ نئے مطالبے شروع ہو گئے۔یہ مطالبات اسلام کے نام پر کئے جارہے تھے لیکن ان میں سے اکثر اسلامی تعلیمات کے بالکل بر عکس تھے۔ہم صرف ایک مثال پیش کرتے ہیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اس گروہ کے خیالات اسلام اور اسلامی ممالک کے لئے کتنا بڑا خطرہ بن سکتے ہیں اور ان میں معقولیت نام کی کسی چیز کا نام و نشان بھی نہیں پایا جاتا۔ماہنامہ الحق کے اپریل مئی کے شمارے میں آئین کے حوالے سے ان مطالبات کی فہرست شائع ہوئی جو اسمبلی کے اندر اور باہر نام نہاد مذہبی جماعتوں کی طرف سے کئے جارہے تھے۔اس رسالے میں " قومی اسمبلی میں مسودہ دستور کی اسلامی ترمیمات کا کیا حشر ہوا" کے نام سے ایک طویل مضمون شائع ہوا۔اس میں مضمون نگار نے یہ اعتراضات کئے کہ اس آئین کو صحیح اسلامی رنگ دینے کے لئے جو تبدیلیاں ضروری تھیں وہ منظور نہیں کی گئیں۔یہ صاحب تحریر فرماتے ہیں: