دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 308 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 308

308 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری منظر یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات اور کشوف اور رؤیا پر اعتراضات اُٹھائے گئے تھے۔ان کے جوابات دیتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے احادیث سے بعض بزرگان کی تحریروں سے اور بعض غیر از جماعت احباب کی تحریروں سے کئی مثالیں سنائی دی تھیں کہ اس طرح کے کشف اور رؤیا تو بہت سے بزرگوں کو ہوتے رہے ہیں اور ان کی تعبیر کی جاتی ہے۔اب عقل کی رو سے جائزہ لیا جائے تو اس طرح کے جواب پر کوئی اعتراض نہیں اُٹھتا بلکہ ہر صاحب شعور اس علمی جواب کی قدر کرے گا۔مگر عقل اور شعور اس کمیٹی میں ایک جنس نایاب کی حیثیت رکھتی تھی۔مفتی صاحب کا اصرار یہ تھا کہ حضور کو روکا جائے کہ جب اس طرح کا کوئی اعتراض ہو تو وہ کوئی اور مثال پیش نہ کریں۔بھلا کیوں نہ کریں مفتی صاحب نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی۔مفتی محمود صاحب نے جو فرمایا وہ یہ تھا:۔”جی عرض یہ ہے کہ کل بھی یہ بات ہوئی تھی وہ ایک جواب لکھ کر لاتے ہیں اور پڑھتے ہیں اور سوال ہوتا ہے ایک بات کے متعلق وہ جواب دیتے ہیں دوسری بات کا۔اب سوال آج تھا کشف کے متعلق انہوں نے کشف کے مقابلے میں جب کہ کشف اور خواب میں فرق ہے ،وہ خود تسلیم کرتے ہیں۔خواب کی چار پانچ مثالیں دیں کہ فلاں نے خواب دیکھا فلاں نے خواب دیکھا انہوں نے بھی دیکھا تو گویا ان کے جرم سے ہمارا جرم کم ہو جاتا ہے۔اس طریقے سے پانچ چھ لوگوں کی مثالیں دیں ان کے خوابوں کی کوئی مثال کشف کی نہیں تھی تو میں کہتا ہوں کہ وہ چیز پوچھی جائے اسی کا جواب دے ایک چیز پوچھی جاتی ہے جواب اور باتوں کا آ جاتا ہے۔“ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو مفتی محمود صاحب نے حضور کی طرف سے دیا گیا جواب سنا نہیں تھا یا پھر سمجھ نہیں پائے تھے۔جماعت کے موقف میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا تھا کہ کشف اور خواب دونوں تعبیر طلب ہوتے ہیں اور اس سلسلہ میں بہت سی مثالیں پیش کی گئی تھیں۔