دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 289 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 289

289 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس وقت پادریوں نے حکومت برطانیہ کے بل بوتے پر اس قدر گندی گالیاں دی ہمارے محبوب حضرت خاتم الانبیاء محمد صلی لیلی کیم کو کہ جن کو سوچ کر بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان سب نے جن کا میں نے نام لیا ہے اور کچھ اور جو ہیں انہوں نے پادریوں کی گندہ دہانی کا جواب انہی کی انجیل سے نکال کے، جو انجیل نے ایک خاکہ کھینچا تھا ، وہ الزامی جواب جیسے کہتے ہیں وہ دیا اور اعلان کیا۔بڑا ذہن رکھتے تھے یہ سب علماء اللہ تعالیٰ نے فراست دی تھی، اسلام کا پیار دیا تھا ان کو ایک طرف ان کے لئے یہ مشکل تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی اور بزرگ بندے اور دوسری طرف یہ تھی کہ ان کے نام پر حضرت محمد صلی علی کرم خاتم الانبیاء جو انبیاء کے اوّل بھی ہیں اور آخر بھی ہیں، ان کی طرف اور ان کی عظمت اور جلال کو ظاہر کرنا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ عطاء کردہ فراست کے نتیجے میں ان بزرگوں نے دو مختلف شخصیتیں بنا دیں ایک یسوع کی شخصیت اور ایک مسیح علیہ السلام کی شخصیت، ایک وہ شخصیت جسے انجیل پیش کر رہی ہے اور شخصیت جسے قرآن عظیم پیش کر رہا ہے اور انہوں نے یہ بات واضح کرنے کے بعد کہ رت مسیح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور عزت و احترام ان کا کرنا ضروری ہے، لیکن جو حملہ ہم کر السلام پر ہیں وہ اس یسوع پر ہے جس نے تمہارے نزدیک خدائی کا دعویٰ دیا تھا تو روpersonalities بالکل علیحدہ علیحدہ کر کے اس طرح اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس فراست کے نتیجے میں وہ اس قابل ہوئے کہ اس دجل کو پاش پاش کریں جو اسلام کے خلاف کھڑا کیا گیا تھا۔حضرت ' رہے ہیں وہ ایک وہ مسیح علیہ 66 اس کے بعد حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے غیر احمدی علماء کے کئی حوالے پیش کئے جن میں انجیل کے پیش کردہ تصوراتی یسوع پر تنقید کی گئی تھی۔