دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 251
251 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ان احادیث نبویہ میں اور مذکورہ عبارت میں ایک لطیف مضمون بیان کیا گیا ہے جو اس دور میں اعجازی مور پر پورا ہو کر آنحضرت صلی لی نام کا ایک زندہ نشان بن چکا ہے۔لیکن یہ علمی مضمون پاکستان کی قابل قومی اسمبلی میں سوالات مہیا کرنے والوں کی عقل سے بالاتر تھا۔اس کے بعد کچھ دیر تک اٹارنی جنرل صاحب نے یہ بحث اُٹھائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ شرعی نبوت کا تھا یا غیر شرعی نبوت کا تھا۔اس معاملہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی اور تحریرات بالکل واضح ہیں۔آپ کا دعویٰ امتی نبی کا تھا۔آپ نے بارہا واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان فرمایا تھا کہ اب آنحضرت صلی اللی علم کی لائی ہوئی شریعت اور آپ کے احکامات کا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں ہو سکتا اور اب جو بھی کوئی روحانی مدارج حاصل کرے گا وہ آنحضرت صلی لی ایم کی اتباع اور فیض سے ہی حاصل کر سکتا ہے۔اس بات کو بحث بلکہ سچ بھٹی کا موضوع بنانا ایک لایعنی بات تھی اور حضرت خلیفة المسیح الثالث نے اس موضوع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات پڑھ کر سنائیں جن سے اُٹھائے گئے اعتراضات باطل ہو جاتے تھے۔ابھی بحث جاری تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب یا ان کو سوالات مہیا کرنے والے قابل احباب اپنی طرف ایک برہانِ قاطع یہ لائے اور اٹارنی جنرل صاحب نے یہ حوالہ پیش کیا۔”پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت غلام احمد صاحب ہر گز مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“ حضرت خلیفة المسیح الثالث" نے ارشاد فرمایا یہ کہاں کا حوالہ ہے ؟" اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے لب کشائی فرمائی ”شریعت نبوت صفحہ 172۔ایک منٹ میں یہ ان کا دوسرا کارنامہ تھا۔اس نام کی جماعت کی کوئی تصنیف نہیں تھی۔یہ حوالہ بھی جعلی تھا۔بقیہ کارروائی میں وہ اس نام نہاد کتاب کو پیش کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے۔پیشتر