دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 250 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 250

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 250 تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے۔اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بناوے جو اس کو نبی سمجھتی اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہے۔اب سمجھنا چاہئے کہ ایسا دعویٰ کرنے والا اسی امت کے روبرو خدائی کا دعویٰ کیونکر کر سکتا ہے کیونکہ وہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ تو بڑا مفتری ہے پہلے تو خدائے تعالیٰ کا اقرار کرتا تھا اور خدا تعالیٰ کا کلام ہم کو سناتا تھا اور اب اس سے انکار ہے اور اب آپ خدا بنتا ہے۔۔۔صحیح معنے یہی ہیں کہ نبوت کے دعویٰ سے مراد دخل در امور نبوت اور خدائی کے دعویٰ سے مراد دخل درامور خدائی ہے جیسا کہ آج کل عیسائیوں سے یہ حرکات ظہور میں آرہی ہیں۔ایک فرقہ ان میں سے انجیل کو ایسا توڑ مروڑ رہا ہے کہ گویا وہ نبی ہے اور اس پر آیتیں نازل ہو رہی ہیں اور ایک فرقہ خدائی کے کاموں میں اس قدر دخل دے رہا ہے کہ گویا وہ خدائی کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے۔“ (85) حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تو یہ لوگ ایمان نہیں لائے تھے لیکن اس حوالہ کا ایک حصہ پڑھ کر بغیر سوچے سمجھے یہ سوال اُٹھانا کہ کیا اس کی ضمیر آنحضرت صلی الی یوم کی طرف جاتی ہے؟ اور پھر اس سوال کو دہرانا یا پرلے درجہ کی بے عقلی ہے یا ایک ایسی خوفناک گستاخی کہ کوئی مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ایک بات تو ظاہر ہے کہ ان سوالات کو پیش کرنے سے قبل کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی۔ان احادیث میں ایک اہم پیشگوئی بیان ہوئی ہے اور بعد میں رونما ہونے والے واقعات اس عظیم پیشگوئی کی واضح تصدیق کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس پیشگوئی کی ایک لطیف تشریح بیان فرما رہے ہیں لیکن پاکستان کے ممبران اسمبلی میں سے اس سوال کو اُٹھانے والے سمجھے بھی تو کیا سمجھے۔