دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 234
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 234 وو ہیں۔اس عجیب سوال کا جواب جماعت احمدیہ کا وفد کیا دے سکتا تھا ؟ یہ سوال تو ان مولوی حضرات سے ہونا چاہیے تھا جو کہ سامنے بیٹھے تھے۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا:۔” یہ سوال جو مجھ سے کر رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ میں کوئی وجہ سوچوں اپنے دماغ سے ؟“اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر یہ عجیب سوال ان الفاظ میں دہرایا۔آپس میں تو انہوں نے ایک دوسرے کو کافر کہہ دیا مگر اکٹھے ہو کے صرف آپ کو انہوں نے غیر مسلم قرار دیا۔66 اس پر حضور نے فرمایا ” اس کی وجہ موجود ہے۔میں حوالہ نکالتا ہوں۔ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم صاحب نے، یہ حوالہ ان کا ہے۔انہوں نے لکھا ہے۔"پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مجھ سے حال ہی میں بیان کیا کہ ایک ملاء اعظم اور عالم مقتدر سے جو کچھ عرصہ ہو ابہت تذبذب اور سوچ بچار کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آگئے ہیں میں نے ایک اسلامی فرقے کے متعلق دریافت کیا۔انہوں نے فتویٰ دیا کہ ان میں جو غالی ہیں وہ واجب القتل ہیں اور جو غالی نہیں وہ واجب التعزیر ہیں۔ایک اور فرقے کے متعلق پوچھا جس میں کروڑ پتی تاجر بہت ہیں۔فرمایا وہ سب واجب القتل ہیں۔یہی عالم ان تیں بنتیں علماء میں پیش پیش اور کرتا دھرتا تھے جنہوں نے اپنے اسلامی مجوزہ دستور میں یہ لازمی قرار دیا کہ ہر اسلامی فرقہ کو تسلیم کر لیا جائے سوائے ایک کے جس کو اسلام سے خارج سمجھا جائے۔ہیں تو وہ بھی واجب القتل مگر اس وقت علی الاعلان کہنے کی بات نہیں۔موقع آئے گا تو دیکھا جائے گا۔انہیں میں سے ایک دوسرے سربراہ عالم دین نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے جہاد فی سبیل اللہ ایک فرقہ کے خلاف شروع کیا ہے۔اس میں کامیابی کے بعد انشاء اللہ دوسروں کی خبر لی جائے گی۔“