دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 208 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 208

208 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کی بات ہے، احمدیوں کی تدفین میں بھی رکاوٹیں ڈالی جا رہی تھیں۔بعض مقامات پر احمدیوں کی قبروں کو اکھیٹر کر ان کی نعشوں کی بے حرمتی کی جا رہی تھی۔جگہ جگہ احمدیوں کو شہید کیا جا رہا تھا اور حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تماشائی بنے کھڑے تھے۔لیکن اسمبلی میں اعتراض احمدیوں پر ہو رہا تھا کہ وہ غیر احمدیوں کے جنازے کیوں نہیں پڑھتے اور ان سے شادیاں کیوں نہیں کرتے۔یہ سوال تو پہلے غیر احمدی مسلمانوں سے ہونا چاہئے تھا۔کیا وہ احمدیوں کا جنازہ پڑھتے ہیں ؟ اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے تو اس اعتراض کا حق انہیں نہیں ہو سکتا کہ احمدی غیر احمدیوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔بلکہ جب 1953ء میں تحقیقاتی عدالت میں حضرت خلیفة المسیح الثانی پر سوالات کئے گئے تو سوالات کرنے والوں میں ایک مولانا میکش بھی تھے۔انہوں نے حضور سے سوال کیا:۔وو عام مسلمان تو احمدیوں کا اس لئے جنازہ نہیں پڑھتے کہ وہ احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں۔آپ بتائیں کہ احمدی جو غیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھتے اس کی اس کے علاوہ کیا وجہ ہے جس کا آپ قبل ازیں اظہار کر چکے ہیں۔" (تحقیقاتی عدالت میں امام جماعت احمدیہ کا بیان۔ص39۔ناشر احمد یہ کتابستان سندھ ) اب ایک عدالتی کارروائی میں کتنا واضح اقرار ہیں کہ مولانا جن کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ احمدیوں کو نہ مسلمان سمجھتے ہیں اور نہ ان کا جنازہ پڑھتے ہیں ، مگر اس کے باوجود مولانا کا یہ خیال تھا کہ ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ احمدیوں کو سرزنش فرمائیں کہ وہ غیر احمدیوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے۔اور تو اور یہ اعتراض اُٹھاتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب نے ریویو آف ریلجنز میں شائع ہونے والی ایک تحریر پڑھی اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ تحریر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی کی ہے اور اس طویل