دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 19 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 19

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 19 جماعت کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والی اور مذہبی جماعتوں کے نام سے موسوم ہونے والی پارٹیوں کی باتوں میں سے اگر نصف بھی صحیح تسلیم کر لی جائیں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان سب کو قادیانیوں نے خرید اہو اتھا اور ان میں سے بہت سے مکہ کے مشرکین کی طرح قابل نفرت ہیں بلکہ بعض تو اس قابل ہیں کہ انہیں سنگسار کر دیا جائے۔ایک دوسرے کے متعلق تو ان کی یہ آراء تھیں، لیکن اس کے باوجود اس بات پر لال پیلے ہو رہے تھے کہ احمدی انتخابی عمل میں کیوں حصہ لے رہے ہیں۔ایک دوسرے کو ان الزامات سے نوازنے کے بعد چند برسوں کے بعد ان پارٹیوں نے ایک اتحاد بھی بنالیا اور اس میں یہ سب پارٹیاں مفتی محمود صاحب کی صدارت میں ایک انتخابی اتحاد کا حصہ بھی بن گئیں۔اور کچھ عرصہ قبل یہ الزام تراشی ہو رہی تھی کہ مفتی محمود صاحب قادیانیوں سے مالی مدد لے رہے ہیں۔اس مثال سے یہ حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے کہ اس گروہ کو اگر کسی چیز سے دلچسپی ہے تو وہ حصولِ اقتدار ہے اور اصول نام کی چیز سے یہ لوگ واقف نہیں۔بھٹو صاحب کا انتخابات سے قبل موقف اس قسم کے سوالات پیپلز پارٹی کے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو صاحب سے بھی کئے جارہے تھے کہ کیا پیپلز پارٹی کا جماعت احمدیہ سے کوئی معاہدہ ہے یا کیا وہ اقتدار میں آکر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیں گے۔اور بھٹو صاحب محتاط انداز میں ان سوالات کا جواب دے رہے تھے۔جولائی 1970ء میں انتخابی مہم کے دوران ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا پیپلز پارٹی عوام کے اس مطالبہ کی حمایت کرے گی کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اس کے جواب میں بھٹو صاحب نے کہا یہ انتہائی نازک مسئلہ ہے جس پر ملک میں پہلے بھی خون خرابہ ہو چکا ہے اور مارشل لاء لگ چکا ہے اور موجودہ حالات میں اگر اس مسئلہ کو ہوا دی گئی تو مزید خون خرابہ ہونے کا خدشہ ہے۔ہماری پالیسی یہ ہے کہ ملک میں سوشلسٹ نظام رائج کریں۔جس میں ہندو عیسائی وغیرہ تمام طبقوں کے عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔یہ قطعاً غلط ہے کہ قادیانی فرقہ کی ہم حمایت کر رہے ہیں۔ہماری جماعت ترقی پسند ہے جس میں اس قسم کے مسئلوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔“ (14) پھر اس کے ایک ہفتہ کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور احمدی فرقہ کے درمیان کوئی خفیہ سمجھوتہ نہیں ہوا، تاہم انتخاب میں کسی طبقہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔(15)