دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 202
202 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ”یقینا جانیئے وہ ایک فرقہ ناجیہ صرف امامیہ اثنا عشریہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں۔کیونکہ حدیث میں امت محمدی صلعم کو تہتر فرقوں میں محدود کیا گیا ہے۔حضور علیہ السلام نے ان میں سے بہتر فرقوں کو تو جہنمی قرار دیا ہے صرف ایک فرقہ کو ان میں سے علیحدہ کر دیا ہے۔“ ( فتاویٰ حائری حصہ دویم - مطبع اسلامیہ سٹیم لاہور۔پہلا سوال ) صرف اپنے فقہ کے امام کے قیاس کو نہ تسلیم کرنے والے کو بھی کافر قرار دیا گیا۔فقہ کی کتاب عرفانِ شریعت میں لکھا ہے اور ”فتاویٰ عالمگیری ہمکا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ:۔”جو شخص امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قیاس کو حق نہ مانے وہ کافر ہے۔“ وو عرفان شریعت۔حصہ سوم۔ص75) مولویوں کے طبقہ نے ہمیشہ امت مسلمہ کے اولیاء اور مجددین کو اپنی تکفیر بازی کا نشانہ بنایا ہے۔چنانچہ مسعود عالم ندوی حضرت سید احمد شہید صاحب کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں علماء سوء اور قبر پرستوں نے مجاہدین امت پر کفر کے فتوے لگائے۔سرحد کے خوانین نے اپنے مرشد و محسن سے غداری کی۔۔۔۔سید احمد شہید اور اسماعیل شہید جیسے مجاہدین امت پر کفر کے فتوے لگائیں۔مسلمانانِ ہند پر اس سے زیادہ منحوس گھڑی کوئی نہیں آئی " 66 (ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک۔ص39 و 40۔مصنفہ مسعود عالم ندوی۔ناشر مکتبہ ملیہ راولپنڈی)