دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 150 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 150

150 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اگست کو کارروائی شروع ہوتی ہے اب ہم اس کارروائی کا جائزہ لیں گے جو پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی میں ہوئی اور اس میں حضرت خلیفة المسیح الثالث " پر کئی روز تک سوالات کا سلسلہ چلا۔یہ جائزہ قدرے تفصیل سے لیا جائے گا۔جیسا کہ جلد ہی پڑھنے والے اندازہ لگا لیں گے کہ اکثر سوالات تو غیر متعلقہ تھے لیکن پھر بھی اس کارروائی کی ایک اہمیت ہے۔وہ اس لئے کہ اس کے بعد دنیا کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک سیاسی اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک گروہ کے مذہب کا کیا نام ہونا چاہئے۔اور اس لئے بھی کہ یہ ایک بین الاقوامی سازش کا ایک اہم حصہ تھا۔اس کے علاوہ مخالفین جماعت کی طرف سے بارہا اس کارروائی کے متعلق غلط بیانی سے کام لے کر اپنے کار ہائے نمایاں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ہر ایک نے اس نام نہاد کارنامے کا سہرا اپنے سر پر باندھنے کی کوشش کی ہے کہ یہ اصل میں میں ہی تھا جس کی ذہانت کی وجہ سے یہ فیصلہ سنایا گیا۔سوالات اور ان کی حقیقت جب بیان کی جائے گی تو پڑھنے والوں کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ ذہانت یا یوں کہنا چاہئے کہ اس کے فقدان کا کیا عالم تھا۔اس کارروائی میں وہی گھسے پٹے سوالات کئے گئے تھے جو کہ عموماً جماعت کے مخالفین کی طرف سے کئے جاتے تھے۔جب ان کا جواب درج کیا جائے گا تو پڑھنے والے ان کی حقیقت کے متعلق خود اپنی رائے قائم کر سکیں گے۔5 اگست کے روز جب کارروائی شروع ہوئی تو آغاز میں سپیکر اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی صاحب نے کہا کہ اس وقت اٹارنی جنرل چیمبر میں مولوی ظفر احمد انصاری صاحب سے مشورہ کر رہے ہیں اور ان کے آنے پر چند منٹ میں ہم کارروائی کا آغاز کریں گے۔پھر سپیکر اسمبلی نے اعلان کیا کہ کارروائی کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ جس نے سوال کرنا ہے وہ اپنا سوال لکھ کر دے گا اور اٹارنی جنرل یہ سوال جماعت کے وفد سے کریں گے۔کارروائی کے آغاز پر اٹارنی جنرل بیٹی بختیار صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کو حلف اُٹھانے کے لئے