دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 151
151 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کہا۔حضرت صاحب کے حلف اُٹھانے کے بعد اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ آپ نے اُن سوالات کے جواب دیئے ہیں جو ہم اچھے جائیں گے اور اگر آپ کسی سوال کا جواب دینا پسند نہ کریں تو آپ انکار کر سکتے ہیں۔لیکن ہیں۔لیکن اس انکار سے سپیشل کمیٹی کوئی نتیجہ اخذ کر سکتی ہے جو آپ کے حق میں اور آپ کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔اور اگر آپ کسی سوال کا فوراً جواب نہ دینا پسند کریں تو آپ اس کے لیے وقت مانگ سکتے ہیں۔پیشتر اس کے کہ ہم ان سوالات کا جائزہ لیں جو پوچھے گئے اور ان جوابات کو دیکھیں جو دیئے گئے یہ امر پیش نظر رہے کہ اس پیش کمیٹی کے سپرد یہ کام تھا کہ یہ فیصلہ کرے کہ اسلام میں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو رسولِ کریم صلی الی ایم کو آخری نبی نہیں مانتے۔اور ان کے سپرد اس مسئلہ کے متعلق آراء جمع کرنا اور اس مسئلہ کو مد نظر رکھتے ہوئے تجاویز تیار کرنا تھا۔یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ خواہ کسی کمیٹی کی تحقیقاتی کارروائی ہو یا کوئی عدالتی کارروائی ہو ہو اور سوال پوچھے جائیں تو یہ سوالات پیش نظر مسئلہ کے بارے میں ہونے چاہئیں یا کم از کم ان سوالات کا اس مسئلہ کے متعلق تجاویز مرتب کرنے سے کوئی واضح تعلق ہونا چاہئے۔اور کچھ نہیں تو سوالات کی اکثریت کا تعلق اس مسئلہ سے ہونا چاہئے۔اگر کوئی ایک غیر متعلقہ سوال بھی پوچھے تو یہ بھی قابل اعتراض ہے کجا یہ کہ کوئی کئی روز غیر متعلقہ سوالات پوچھتا جائے۔کارروائی کے آغاز سے یہ امر ظاہر تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب غیر متعلقہ سوالات میں وقت ضائع کر رہے ہیں اور اصل موضوع پر آنے سے کترا رہے ہیں۔ان کا پہلا سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں تھا۔اگر یہ پیشِ نظر رہے کہ یہ کمیٹی کس مسئلہ پر غور کر رہی تھی تو یہی ذہن میں آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کیا تھے یا حضرت خاتم الانبیاء صلی للی یکم کی شان میں آپ نے کیا فرمایا لیکن اٹارنی جنرل نے سوال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کب اور کہاں پیدا ہوئے ، آپ کا خاندانی پس منظر کیا تھا ، آپ کی تعلیم کیا تھی اور آپ نے کب اور کہاں وفات پائی۔اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح ،