دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 131
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 131 اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعائیں سنی نہیں جائیں گی کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں۔۔۔۔۔۔کوئی زمین پر مر نہیں سکتا جب تک آسمان پر نہ مارا جائے۔میری روح میں وہی سچائی ہے جو ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی۔مجھے خدا سے ابراہیمی نسبت ہے۔کوئی میرے بھید کو نہیں جانتا مگر میر اخدا۔مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔میں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔۔۔اے خدا !! تو اس امت پر رحم کر۔آمین“ (ضمیمه اربعین نمبر 4 صفحہ 5 تا 7۔روحانی خزائن جلد 17 ص471 تا 473) اس وقت پورے ملک میں جماعت احمدیہ کے خلاف پورے زور و شور سے ایک مہم چلائی جارہی تھی اور احمدیوں پر ہر طرف سے ہر قسم کے الزامات کی بارش کی جارہی تھی۔اس محضر نامہ میں اس قسم کے کئی اعتراضات کے جوابات بھی دیئے گئے تھے تاکہ پڑھنے والوں پر ان اعتراضات کی حقیقت آشکار ہو۔جب کئی دہائیوں کے انتظار کے بعد 1974ء میں ہونے والی سپیشل کمیٹی کی کارروائی شائع کی گئی تو اس میں جماعت احمد یہ کی طرف سے پیش کردہ محضر نامہ کو شائع نہیں کیا گیا حالانکہ اس محضر نامہ کو جماعت احمدیہ کے موقف کے طور پر دوروز میں سپیشل کمیٹی کے سامنے پڑھا گیا تھا اور یہ کارروائی کا اہم ترین حصہ تھا۔جماعت احمدیہ کا اصل موقف تو یہ محضر نامہ ہی تھا ورنہ سپیشل کمیٹی میں کئے جانے والے سوالات تو اصل موضوع سے گریز کی کوشش کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں رکھتے تھے۔یہ تحریف کیوں کی گئی ؟ فرار کا راستہ کیوں اختیار کیا گیا؟ اس لئے کہ اس کی اشاعت کے نتیجہ میں اصل حقیقت سب کے سامنے آجانی تھی اور جماعت احمدیہ کے مخالفین کو ایسی سبکی اُٹھانی پڑتی، جس کا تصور بھی ان کے لئے ناقابل بر داشت ہو رہا تھا۔