دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 130 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 130

130 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری امت سے نہیں ہے۔وہ خود آنحضرت کے بعد ایک اور نبی یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں اور اس طرح اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت موسی کی امت سے تعلق رکھنے والا ایک پیغمبر امت محمدیہ کا آخری روحانی محسن ہو گا۔اس کے بعد کے ابواب میں ذات باری تعالیٰ، قرآن کریم کی از فع شان کے بارے میں اور آنحضرت کے اعلیٰ مقام کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی معرفت سے پر تحریرات درج کی گئی تھیں۔ایک تفصیلی علیحد و باب آیت خاتم النبیین کی تفسیر کے بارے میں تھا۔اس باب میں قرآن کریم کی آیات، احادیث نبویہ، لغت عربیہ اور بزرگان سلف کے اقوال اور تحریرات کی رو سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ آیت خاتم النبیین کی صحیح تفسیر وہی ہے جو جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں کی گئی ہے۔چونکہ اپوزیشن کی پیش کردہ قرارداد میں رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد کو اپنی قرارداد کی بنیاد بنا کر پیش کیا گیا تھا اور اپوزیشن کی قرارداد میں بھی جماعت احمدیہ پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے تھے اس لئے اس محضر نامے میں ان دونوں قرار دادوں میں شامل الزامات کی تردید پر مشتمل مواد بھی شامل کیا گیا تھا اور پھر اراکین اسمبلی کے نام اہم گزارش کے باب میں مختلف حوالے دے کر لکھا گیا تھا کہ مذہب کے نام پر پاکستان کے مسلمانوں کو باہم لڑانے اور صفحہء ہستی سے مٹانے کی ایک دیرینہ سازش چل رہی ہے۔اس پس منظر میں پاکستان کے گزشتہ دور اور موجودہ پیداشدہ صورت حال پر نظر ڈالی جائے تو صاف معلوم ہو گا کہ اگر چہ موجودہ مرحلہ پر صرف جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینے پر زور ڈالا جا رہا ہے مگر دشمنان پاکستان کی دیرینہ سکیم کے تحت امتِ مسلمہ کے دوسرے فرقوں کے خلاف بھی فتنوں کا دروازہ کھل چکا ہے اس محضر نامہ کے آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ پر درد انتباہ درج کیا گیا:۔” میں نصیحتاللہ مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کر نا طریق شرافت نہیں ہے۔اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی لیکن اگر مجھے آپ لوگ کاذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بد دعائیں کریں اور رو رو کر میرا استیصال چاہیں پھر اگر میں کاذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی۔اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں۔لیکن یا درکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعائیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رورو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرتِ گریہ وزاری سے بینائی کم ہو جائے