دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 101 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 101

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 101 پارسی لکھی گئی ہیں۔بھٹو صاحب یہ نکتہ بیان کر رہے تھے کہ جب آئین منظور ہوا تھا تو اپوزیشن کے اکثر علماء ، جن میں مفتی محمود صاحب بھی شامل تھے اس پر دستخط کیے تھے بلکہ اس کی منظوری پر مفتی صاحب نے ہی دعا کرائی تھی۔اس آئین کو بنانے کے لیے اسمبلی نے جو کمیٹی تشکیل دی تھی، مفتی محمود صاحب اس کے ممبر بھی تھے اور اس وقت انہوں نے مختلف نکات اٹھائے تھے لیکن یہ نکتہ نہیں اٹھایا تھا کہ احمدی غیر مسلم اقلیت ہیں ان کا نام بھی آئین کی اس شق میں غیر مسلم اقلیتوں میں درج ہونا چاہئے۔اس مرحلہ پر یہ کارروائی ایک گرا ہوا انداز اختیار کر گئی۔ایک رکن اسمبلی احمد رضا قصوری صاحب نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ نو اراکین نے آئین پر دستخط نہیں کیے تھے۔(دراصل تین اراکین نے اس آئین کی منظوری کے وقت ووٹ نہیں دیا تھا۔یہ تین اراکین شاہ احمد نورانی صاحب، محمود علی قصوری صاحب اور احمد رضا قصوری صاحب تھے ) (14)۔اس پر وزیر اعظم غصہ میں آگئے اور کہا:۔You keep quiet۔I have had enough of you۔Absolute poison۔I will not tolerate your nuisance ترجمہ : خاموش رہو۔میں تمہیں کافی برداشت کر چکا ہوں۔مکمل زہر۔میں تمہاری بد تمیزی برداشت نہیں کروں گا۔تلخی بڑھی اور احمد رضا قصوری صاحب نے وزیر اعظم کو بندر کہا۔پھر سپیکر نے مداخلت کی اور وزیر اعظم نے پھر اس پر تقریر شروع کی۔اس کے بعد وزیر اعظم نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئین میں صدر اور وزیر اعظم کے حلف میں ختم نبوت کے عقیدہ کا حلف داخل کیا ہے اور کہا کہ اس طرح ہم نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی قوم ختم نبوت پر ایمان لاتی ہے اور یہ کہ ہمارے نبی کے بعد اب کوئی اور نبی نہیں ہو سکتا۔اور پھر وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں عدالتی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنا چاہئے۔(15) اس روز جب قومی اسمبلی میں کوئی شخص یہ کہنے کو تیار نہیں تھا کہ گوجر انوالہ میں اتنے احمدی شہید کر دیئے گئے ہیں۔پاکستان میں کتنے ہی مقامات پر احمدیوں کو ہر طرح کے مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ملک کے وزیر اعظم بھی اگر کوئی بات کر رہے تھے تو بہت عمومی انداز میں کہ ہمیں ایک دوسرے سے لڑنا نہیں چاہئے ، ملک میں پہلے ہی بہت سے مسائل ہیں اور