دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 100
100 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پاکستان کی سالمیت کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا اور ایک بھیانک جارحیت تھی۔لیکن اس روز تک پاکستان کے کئی مقامات پر احمدیوں کے خلاف فسادات شروع ہو چکے تھے اور انہیں ہر طرح کے مظالم کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔اور کئی احمدیوں کو ملک کے مختلف مقامات پر ظالمانہ طریق پر شہید کیا جا چکا تھا۔یہ بات مفتی صاحب کے نزدیک نہ تو ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ تھی اور نہ ہی اس سے کسی قسم کی جارحیت کی بو آتی تھی۔اور نہ ہی دیگر ممبران اسمبلی کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ احمدیوں پر ہونے والے ان مظالم پر دو حرف ہی کہہ دیتے۔وقفہ کے بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مہذب لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہم میں برداشت ختم کیوں ہو گئی ہے۔کیا ہم اپنے مسائل کو مہذب طریق سے حل نہیں کر سکتے۔جب بھی ہمارا ایک مسئلہ ختم ہوتا ہے ہم ایک اور مسئلہ تلاش کر لیتے ہیں تا کہ ہم آپس میں لڑ سکیں۔پھر کہا کہ یہ مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں۔یہ مسئلہ تقسیم ہند سے پہلے سے موجود تھا۔یہ وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے تقسیم ہند کے بعد لاہور میں پہلا مشہور مارشل لاء لگا تھا۔مجھے کوئی حیرت نہیں کہ اس معاملہ کا آغاز کیوں ہوا ہے جب ہم ایک مسئلہ حل کر لیتے ہیں تو ہم ایک دوسرا مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔پھر انہوں نے اپوزیشن اراکین کے بعض نکات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس سے انکار نہیں کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔بے شک یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ہم کہتے ہیں کہ غالب امکان ہے کہ یہ ایک منصوبہ کے تحت کیا گیا ہے۔اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے لیکن یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔اور نہ ہی ہم نے اسے پیدا کیا ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ اس پر بحث بھی ہونی چاہئے لیکن اس وقت جب خون بہنا بند ہو جائے اور ملک میں امن کاراج ہو پھر ہمیں ٹھنڈے دماغ سے اور معتدل انداز میں اس پر بات کرنی چاہئے اور چاہئے کہ ہم اس بارے میں کسی فیصلہ پر پہنچیں۔اس کے بعد وزیر اعظم نے اپوزیشن جماعتوں پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عرصہ سے اس مسئلہ کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے اور موقع کی تلاش میں تھے کہ انہیں کوئی موقع ملے کیونکہ انہیں دوسرے مواقع پر حکومت کے مقابل پر زک اُٹھانی پڑی ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ آئین کی منظوری اپوزیشن ممبران نے بھی دی تھی اور اس کے آرٹیکل 106 (13) میں اقلیت کی وضاحت کی گئی ہے۔1973ء کا آئین جو بھٹو صاحب کی حکومت کا ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔اور جس پر اکثر اپوزیشن کے اراکین نے بھی دستخط کیے تھے۔اس کے آرٹیکل 106 (13) میں صوبائی اسمبلی میں مذہبی اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا ذکر ہے۔اور ان مذہبی اقلیتوں کے نام بھی لکھے ہیں۔اور آئین میں یہ اقلیتیں عیسائی، ہندو، سکھ ، بدھ اور