دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 96 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 96

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کیم سے پندرہ جون تک کے حالات 96 96 یکم جون تک حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کا رویہ واضح ہو کر سامنے آچکا تھا۔اور اب مفسدین محسوس کر رہے تھے کہ انہیں کھلی چھٹی ہے۔اس روز 41 مقامات پر فسادات ہوئے۔سکھر اور پشاور کے علاوہ باقی سب شہر اور قصبے صوبہ پنجاب کے تھے۔یوں تو پورے صوبے میں فسادات کی آگ لگی ہوئی تھی لیکن اس روز سب سے بڑا سانحہ گوجر انوالہ میں پیش آیا۔یہاں پر سول لائن اور سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاوہ باقی سب علاقوں میں احمدیوں کے مکانوں اور دوکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔بلوائیوں نے پہلے محمد افضل صاحب اور پھر ان کے بیٹے محمد اشرف صاحب کو بڑے دردناک انداز میں شہید کیا۔پہلے محمد اشرف صاحب کے پیٹ میں چھرے مارے گئے جس سے انتڑیاں باہر آگئیں اور پھر اینٹوں سے سر کو ٹا گیا۔جب دم توڑتے ہوئے محمد اشرف نے پانی مانگا تو کسی ظالم نے منہ میں ریت ڈال دی۔جب تو جوان بیٹے کو اس طرح قتل کر دیا گیا تو باپ کو کہا کہ تم اب بھی ایمان لے آؤ اور مرزا غلام احمد قادیانی کو گندی گالیاں دو۔انہوں نے جواب دیا کہ کیا تم مجھے اپنے بیٹے سے بھی کمزور ایمان کا سمجھتے ہو۔اس پر ان کو بھی اسی طرح شہید کر دیا گیا۔پھر دو پہر کے وقت سعید احمد خان صاحب ، ان کے خسر چوہدری منظور احمد صاحب اور چوہدری منظور احمد صاحب کے بیٹے چوہدری محمود احمد صاحب کو شہید کر دیا گیا۔جب سعید احمد خان صاحب کو شہید کرنے کے لیے جلوس آیا تو ان کے ساتھ پولیس بھی تھی۔سعید احمد خان صاحب نے تھانیدار کو کہا کہ وہ بلوائیوں کو روکیں مگر سب بے سود جب وہ واپس جانے کے لیے مڑے تو تھانیدار نے اشارہ کیا اور جلوس آپ پر ٹوٹ پڑا اور پتھروں اور ڈنڈوں سے آپ کو شہید کر دیا۔ان کے علاوہ قریشی احمد علی صاحب کو بھی سفاکانہ انداز میں شہید کر دیا گیا۔گوجر انوالہ میں بہت سے مواقع پر پولیس بلوائیوں کو روکنے کی بجائے ان کا ساتھ دے رہی تھی۔یکم جون کو مندرجہ بالا مقامات پر سارا دن احمدیوں کے خلاف جلوس نکلتے رہے، اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں اور لوگوں کو احمدیوں کی قتل و غارت پر اکسایا گیا۔پہلے کی طرح اس روز بھی مفسدین کی بڑی توجہ احمدیوں کی دوکانوں کی طرف رہی۔اس کے پیچھے احمدیوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ لوٹ مار کر کے خود فائدہ اُٹھانے کا جذبہ بھی کار فرما تھا۔سانگلہ ہل، وزیر آباد اور ڈسکہ میں احمدیوں کی فیکٹریوں کو آگ لگائی گئی اور یہاں سے کثیر مقدار میں سامان لوٹا گیا۔اس کے علاوہ احمدیوں کے مکانوں پر اور ان کی مساجد پر حملے کئے گئے۔