دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 97 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 97

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 97 ایک طرف تو یکم جون کو احمدیوں کو بے دردی سے شہید کیا جا رہا تھا اور ملک کے کئی مقامات پر احمدیوں کے ا گھروں، مساجد، دوکانوں اور فیکٹریوں کو لوٹا جارہا تھا اور ان کو آگ لگائی جارہی تھی اور دوسری طرف اسی روز قومی اسمبلی میں بھی سٹیشن کے واقعہ کی باز گشت سنائی دی۔لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ احمدیوں کو قتل کیا جارہا ہے اور ان پر مظالم کے پیار توڑے جارہے ہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن کچھ Credit لینے کے لیے بے تاب تھی۔چوہدری ظہور الہی جو مسلم لیگ سے اسمبلی کے ممبر تھے وہ سٹیشن کے واقعہ پر تحریک التوا پیش کرنا چاہتے تھے۔سپیکر کا اصرار تھا کہ یہ معاملہ صوبائی حکومت سے تعلق رکھتا ہے اور اس پر تحقیق کے لیے حج مقرر کیا جا چکا ہے، اس لیے ممبران قومی اسمبلی اپنی تقریر کو صرف قانونی نکات تک محمد ود رکھیں۔اور چوہدری ظہور الہی صاحب سٹیشن پر ہونے والا واقعہ اپنی طرز پر پورا کا پورا قومی اسمبلی کو سنانے پر مصر تھے، زیادہ تر وقت اسی بحث میں گزر گیا۔لیکن چند قابل ذکر امور یہ تھے کہ پچھلے دو روز سے لائلپور میں احمدیوں کے مکانوں کو آگ لگائی جارہی تھی۔جب قومی اسمبلی میں بحث نے طول پکڑا تو ایک ممبر نے کہا کہ اپوزیشن والے اس مسئلہ کو ہوا دے کر ملک میں افرا تفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اور وزیر قانون نے کہا کہ لائلپور میں مکان کس نے جلائے تھے ؟ اس میں اشارہ تھا کہ لائلپور میں احمدیوں کے مکان جلانے کے پیچھے اپوزیشن کی کچھ جماعتیں ملوث تھیں۔اس پر چوہدری ظہور الہی صاحب غصے سے بھڑک اٹھے۔ایک ممبر اسمبلی مولوی غلام غوث ہزاروی نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت مرزا ناصر احمد کو گرفتار کرنا ضروری ہے۔اور ایک رکن اسمبلی احمد رضا قصوری صاحب نے جو احمدیت کے خلاف مختلف جگہوں پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے تھے نے ایک جملہ یہ کہا کہ سٹیشن پر یہ واقعہ انٹیلی جنس نے کرایا ہے۔الغرض یہ دوڑ لگی ہوئی تھی کہ کسی طرح احمدیت کی مخالفت میں کچھ بیان بازی کر کے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کیے جائیں (13)۔جب ہم فسادات کے آغاز سے لے کر پندرہ جون تک کے فسادات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ختم ہونے کی بجائے ان کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور حکومت بھی ان پر قابو پانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کر رہی تھی۔حکومت کا رویہ کیا تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 3 / جون کو حکومت کے ریونیو منسٹر رانا اقبال احمد صاحب نے گوجر انوالہ کے بار روم میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احمدیوں کا جو نقصان ہوا ہے وہ ان کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔جب جلوس آیا تو افضل صاحب نے پستول دکھا یا تو عوام نے مشتعل ہو کر انہیں قتل کر دیا۔اگر احمدی مزاحمت نہ کرتے تو کوئی خاص نقصان نہ ہوتا۔پھر انہوں نے کچھ احمدیوں کا نام لے کر کہا کہ وہ مجھ سے سختی سے پیش آئے اور پھر وزیر صاحب نے فرمایا کہ