دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 94 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 94

94 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری لیں اور ساتھ یہ شوشہ چھوڑا کہ جنرل ٹکا خان صاحب کے بعد جو کہ اس وقت پاکستانی بڑی افواج کے سربراہ تھے چار سینیئر جر نیل قادیانی ہیں۔یہ بات بھی بالکل خلاف واقعہ تھی اور اگر ٹریبونل چاہتا تو اس دعویٰ کو آسانی سے چیک کیا جا سکتا تھا اور محض ایک سوال کر کے یہ ظاہر کیا جاسکتا تھا کہ محض جھوٹا الزام لگا کر عوام کو بھڑ کا یا جارہا ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔اگر حکومت خود چاہتی تو اس بات کی تردید کر سکتی تھی کہ یہ چار فرضی سینیئر قادیانی جنرل موجود نہیں ہیں لیکن حکومت نے بھی ایسا نہیں کیا۔اگر اخبارات حقائق شائع کرنا چاہتے تو چار سینیئر جرنیلوں کے نام شائع کر کے یہ ظاہر کر سکتے تھے کہ یہ احمدی نہیں ہیں اس لئے اس فرضی سازش کا الزام مضحکہ خیز ہے لیکن اخبارات نے یہ نا معقول الزام تو شائع کیا مگر حقائق شائع نہیں کئے۔اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک بھونڈے ڈرامے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا اور ایک طرف تو یہ سٹوڈنٹ لیڈر یہ الزام لگارہے تھے اور دوسری طرف یہ اعتراف بھی کر رہے تھے کہ جس جلسے سے میں نے خطاب کیا تھا اس میں مقررین نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت نہ قرار دیا گیا تو پنجاب کے کسی تعلیمی ادارے میں طلباء کو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔(مشرق 20 جون 1974 ء ص 1) اس وقت جو ملک میں حالات پیدا کئے جارہے تھے ان میں کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ آخر وہ کون سے سینیئر جرنیل ہیں جو کہ عقیدہ کے اعتبار سے احمدی ہیں۔نہ یہ سوال عدالت میں کیا گیا اور نہ ان اخبارات میں جہاں ان الزامات کو سرخیوں کے ساتھ صفحہ اول پر شائع کیا جارہا تھا یہ سوال اٹھایا گیا۔حقیقت یہ ہے کہ جب احمدیت کے مخالفین کسی خلاف قانون سرگرمی کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں تو وہ یہ واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ احمدی اس بات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب چند سال کے بعد ایک جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کیا تو ان کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں تھا بلکہ ان کا شمار احمدیت کے اشد ترین مخالفین میں سے ہو تا تھا۔جب ہم نے جسٹس صمدانی صاحب سے اس الزام کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جہاں تک مجھے یاد ہے اس بات پر کوئی توجہ نہیں کی گئی تھی۔جسٹس صمدانی صاحب کی یہ بات تو درست ہے کہ اس بات پر شاید ٹریبونل نے کوئی توجہ نہیں کی تھی لیکن یہ جھوٹے الزامات لگا کر اور انہیں نمایاں کر کے شائع کر کے ملک میں احمدیوں کے خلاف فسادات تو بھڑ کائے جارہے تھے۔ایک اور صاحب نے تو ایک روز ٹریبونل کے روبرو یہ بیان بھی دیا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی نے یہ اعلان کیا تھا کہ خدام الاحمدیہ اسلام کی فوج ہے اور ہم بہت جلد اقتدار میں آنے والے ہیں (مشرق 27 جون 1974ء ص 1)۔