دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 6
6 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری A verbatim record of the proceedings of the committee shall, when a witness is summoned to give evidence, be kept۔اس قاعدہ کے الفاظ بالکل واضح ہیں۔جب ایک گواہ کمیٹی میں گواہی دے تو اس کے بیان کا حرف بحرف ریکارڈ رکھنا ضروری ہے لیکن کیا ایسا کیا گیا؟ اس اشاعت میں بعض مقامات پر جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے حوالہ کے طور پر عربی عبارت پڑھی ہے وہاں اصل عبارت کی جگہ صرف " عربی " لکھنے پر اکتفا کی گئی ہے۔یہ طریقہ کار قوائد کے بالکل خلاف ہے۔اصل عبارت درج کیوں نہیں کی گئی ؟ مولوی ظفر انصاری صاحب عربی زبان سے بخوبی واقف تھے۔کئی مولوی صاحبان کو جو اس اسمبلی کے ممبر تھے عربی دانی کا دعوی تھا۔اگر یہ سب عربی عبارت سمجھنے سے عاجز تھے تو حسب قواعد ضروری تھا کہ جماعت کے وفد کو متعلقہ حصہ دکھا کر اصل عبارت درج کر لی جاتی ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ گروہ اس بات سے خائف کیوں تھا کہ اس ریکارڈ کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی جماعت احمدیہ کے وفد کے کسی ممبر کو دکھایا جاتا۔آخر کیا خوف دامنگیر تھا؟ ہم اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں۔ان وجوہات کی بنا پر اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اگر جماعت احمد یہ یا کسی بھی محقق کی طرف سے اس اشاعت کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر مسترد کیا جائے تو یہ ان کا حق ہے۔جب اس کارروائی کو جزوی طور پر شائع کیا گیا تو اس وقت جماعت کے احمدیہ کے وفد کے پانچوں اراکین وفات پاچکے تھے۔اب اس اشاعت کی تصدیق کرنا ممکن نہیں رہا۔لہذا اس کتاب میں جہاں یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کہ حضور نے فرمایا۔۔۔۔۔۔یا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے فرمایا۔۔۔۔۔۔" تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس اشاعت میں یہ لکھا ہے کہ حضور نے یہ فرمایا تھا۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا غلط ؟ لیکن جب بھی اس قسم کا مواد دنیا کے سامنے آتا ہے تو اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔اس کتاب میں ہم نے صرف یہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب ایک عام پڑھنے والا اس کارروائی کو پڑھ کر اصل پس منظر اور حقائق کا جائزہ لیتا ہے اور اصل حوالوں کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کیا منہ نتائج سامنے آتے ہیں۔جس گروہ نے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے تو ان کے موقف کی کمزوری کی یہ کیفیت ہے وہ کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہو ہی جاتی ہے۔اس تمہید کے بعد میں ہم سب سے پہلے ان واقعات کا پس منظر پیش کرتے ہیں۔