دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 75 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 75

75 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری عبد الرحیم در دصاحب کی باقاعدہ درخواست پر انہوں نے بذریعہ تار جواب دیا کہ ہم اس درخواست کو قبول کرتے ہیں اور ہمارا بیٹا فیصل ستمبر میں لندن کے لئے جدہ سے روانہ ہو گا۔23 ستمبر 1926ء کو شاہ حجاز کے صاحبزادے امیر فیصل انگلستان پہنچے اور امام مسجد لندن کی سر کردگی میں ان کا پر تپاک خیر مقدم کیا گیا اور تمام اخبارات میں بھی یہ خبریں شائع ہو گئیں کہ وہ لندن کی نئی مسجد کا افتتاح کریں گے۔امیر فیصل کا قیام بطور سر کاری مہمان بہائیڈ پارک ہوٹل میں تھا۔لیکن جلد ہی ایسے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے کہ امیر فیصل کسی وجہ سے مسجد کے افتتاح یا جماعت کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ میں شرکت کرنے سے متر ڈر ہیں۔29 / ستمبر کی رات کو جماعت کی طرف سے ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جانا تھا اور یہ پروگرام ان کی رضامندی سے رکھا گیا تھا اور 3 / اکتوبر کو مسجد کا افتتاح کیا جانا تھا۔لیکن امام مسجد لندن کو مسٹر جارڈن جو کہ جدہ میں برطانوی کو نسل تھے کا پیغام ملا کہ وہ انہیں ملیں۔ملاقات پر ان کو بتایا گیا کہ 29 / ستمبر کی تاریخ اس استقبالیہ کے لئے مناسب نہیں کیونکہ اسی تاریخ کو حکومت برطانیہ کی طرف سے بھی دعوت ہے لیکن جب حضرت مولانا عبد الرحیم در د صاحب نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ حکومت کی طرف سے دعوت دو پہر کو ہے اور جماعت کی طرف سے استقبالیہ رات کو ہے لیکن برطانوی افسران اس بات پر مصر رہے کہ یہ دعوت 29 / ستمبر کو نہیں ہونی چاہئے بلکہ مسجد کے افتتاح کے بعد 6 / اکتوبر کو ہونی چاہئے۔یہ بات بہت معنی خیز تھی کہ دعوت قبول تو سعودی فرمانروانے کی تھی لیکن اس پروگرام میں رد و بدل کا اختیار اب برطانوی حکومت کے پاس آچکا تھا۔اور سعودی شہزادے اور ان کا وقد محض خاموش تھا۔اور دوسری طرف اخبارات میں خبریں چھپ رہی تھیں کہ امیر فیصل اس نئی مسجد کا افتتاح کریں گے۔لیکن اب اس بات کے آثار واضح ہو رہے تھے کہ امیر فیصل اب مسجد کا افتتاح نہیں کریں گے۔28 ستمبر کو حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحب کو ایک با اثر شخصیت کی طرف سے خط ملا کہ امیر فیصل اس افتتاح میں شریک نہیں ہو سکیں گے اور وجہ یہ بتائی گئی کہ سلطان عبد العزیز کی طرف سے کوئی تار ملا ہے جس کی وجہ سے یہ رکاوٹ پیدا ہوئی ہے اور یہ بھی کہا کہ اس کی وجہ ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے کی جانے والی مخالفت ہے لیکن اس کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ خبر پہنچانے والے صاحب خود بھی اصل وجہ سے بے خبر ہیں۔لیکن وہ صاحب یہ خیال ظاہر کر رہے تھے کہ مسجد کے افتتاح کی تقریب ملتوی کر دی جائے لیکن حضرت مولانا عبد الرحیم درد صاحب کا خیال یہی تھا کہ مسجد کا افتتاح بہر حال مقرر کردہ تاریخ پر کیا جائے۔حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بھی صورت حال لکھ کر راہنمائی کے لئے درخواست کی گئی تو حضور نے بھی اسی خیال کے مطابق حکم دیا کہ افتتاح کی تیاری رکھی جائے۔پھر حجاز کے وزیر خارجہ خود حضرت درد