دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 76 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 76

76 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری صاحب سے ملے اور کہا کہ ہمیں اس صورت حال کا بہت افسوس ہے۔اصل میں سلطان عبد العزیز کی طرف سے یہ تار ملا تھا کہ تم اپنی ذمہ داری پر اس مسجد کا افتتاح کر سکتے ہو اور وہاں کے مسلمانوں سے بھی مشورہ کر لینا اور ہم نے سلطان کے حکم کی وضاحت کے لئے تار دی ہے اگر مثبت جواب آیا تو ہم اس تقریب میں بڑی خوشی سے شامل ہوں گے۔لیکن آخر تک حجاز سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔اور حضور سے لی گئی اجازت کے مطابق سر عبد القادر صاحب نے مسجد کا افتتاح کیا۔اس وقت جو بھی حالات سامنے نظر آرہے تھے اس کے مطابق کوششیں کی جارہی تھیں لیکن اس رکاوٹ کے پیچھے بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت کام کر رہی تھی۔چونکہ ایک عرصہ کے بعد امیر فیصل نے سعودی مملکت کے فرمانروا کی حیثیت سے جماعت کے مخالف ایک عالمی نفرت انگیز مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کی حکمت نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ وہ اُس مسجد کا افتتاح کر سکے جس کو بعد میں جماعت کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت ملنی تھی۔تاریخ مسجد فضل لندن ص 45 تا60، مصنفہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب، ناشر مینیجر بکڈپو تالیف و اشاعت قادیان) انگلستان کے اس دورہ کے دوران امیر فیصل نے مسجد کا افتتاح تو نہیں کیا لیکن وہ دوسرے معاملات میں مصروف رہے۔اس وقت تو یہ حقائق پوری طرح سامنے نہیں آئے تھے لیکن اب یہ معروف حقائق بن چکے ہیں کہ ان دنوں امیر فیصل سلطنت برطانیہ کے عہدیداروں سے مذاکرات کر رہے تھے۔اور ان مذاکرات کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ برطانیہ حجاز پر ان کے والد کی بادشاہت کو قبول کر لے۔اور کچھ عرصہ کے بعد ان مذاکرات کا نتیجہ بھی سامنے آگیا اور مئی 1927ء میں باقاعدہ طور پر Treaty of Jeddah پر دستخط ہوئے جس کے نتیجہ میں حجاز اور نجد کے علاقہ پر سعودی خاندان کی حکومت تسلیم کر لی گئی۔لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ پہلی مرتبہ جن افسران نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ امیر فیصل جماعت احمدیہ کی تقریہ میں شامل نہیں ہوں گے وہ سعودی حکومت کے کوئی عہدیدار نہیں تھے بلکہ برطانوی سفارتکار تھے اور اس وقت امیر فیصل برطانوی عہدیداروں سے مذاکرات کر رہے تھے۔اور ان مذاکرات کی کامیابی برطانوی حکومت کی خوشنودی پر منحصر تھی۔(The late King Faisal, his life, personality and methods of Government by Marianne Ali reza P8۔) یہ مضمون انٹرنیٹ پر موجود ہے )