دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 71
71 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کتابیں لکھوا کر اور انہیں خرید کر یا پھر ویسے ہی علماء کی مدد بھی کرتے تھے۔پھر ان سے دریافت کیا گیا کہ اس کمیٹی میں احمدیوں پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ وہ جہاد کے قائل نہیں۔اس پر ان کا جواب یہ تھا کہ بھائی جہاد کسے کہتے ہیں۔آج تک کسی نے جہاد کی Definition کی ہے۔اگر جہاد کا مطلب یہی ہے کہ تلوار اُٹھانا تو وہ کن حالات میں اُٹھائی جائے۔جہاد کے تو اور بھی بڑے مطلب ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہاں کون سب سے زیادہ اس قرار داد میں دلچسپی لے رہا تھا تو ان کا جواب تھا کہ سعودی سب سے زیادہ اس قرار داد کو منظور کرانے میں دلچسپی لے رہے تھے۔پھر رابطہ کے اس اجلاس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ اس وقت احمدی پاکستان کی سول سروس میں اور ملٹری میں بہت نمایاں پوزیشن حاصل کرتے جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت احمدی ایسی نمایاں پوزیشن پر موجود ہی نہیں تھے۔جب ان سے کہا گیا کہ اس وقت تو احمدی ایسی کسی نمایاں پوزیشن پر موجود ہی نہیں تھے۔تو ان کا بے ساختہ جواب یہ تھا کہ ایم ایم احمد تو تھے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ایم ایم احمد اس قرار داد کے وقت پاکستان میں موجود نہیں تھے بلکہ ورلڈ بینک میں جاچکے تھے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی احمدی اپنی صلاحیت کی بنا پر کوئی پوزیشن حاصل کرتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔اب سابق وفاقی وزیر مبشر حسن صاحب کا یہ کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک فیڈرل سیکریٹری حکومت کی مرضی کے خلاف ایسی قرار داد پر دستخط کر آئے اور تجمل ہاشمی صاحب کا یہ کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں نہیں کہا تھا کہ اس قرار داد پر دستخط کر و۔اب پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سا جواب حقیقت کے قریب تر ہو سکتا ہے۔جماعت کے مخالفین کی طرف سے رابطہ عالم اسلامی کی اس قرار داد کا حوالہ بار بار دیا گیا ہے۔1974ء میں جب جماعت کے خلاف قرار دادیں پیش کی گئیں تو بھی اس فیصلہ کو امت مسلمہ کے مشترکہ فیصلہ کے طور پر پیش کیا گیا اور اس کے بعد بھی اب تک ہر سطح پر اس قرار داد کا حوالہ دیا جاتا ہے اور اس قرار داد پر دستخط کرنے والا پاکستانی مندوب خود اقرار کرتا ہے کہ اس قرارداد کے مندرجات سے تو مجھے اتفاق ہی نہیں تھا۔میں نے تو ویسے ہی اس پر دستخط کر دیئے تھے۔اس وقت سعودی حکومت کے پاس مدد دینے کے لئے پیسے تھے اور اس وقت وہ مختلف ذرائع سے مدد کیا کرتے تھے۔اب پڑھنے والے خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس قرار داد کی اصل حقیقت کیا ہے۔اس باب کے آخر میں یہ ذکر کرنا مناسب ہو گا کہ اس تنظیم رابطہ عالم اسلامی کا آغاز کیسے ہوا اور اس کا بالواسطہ طور پر جماعت احمدیہ کی تاریخ سے کیا تعلق تھا ؟ مو شمر عالم اسلامی کا پہلا اجلاس 1926 ء میں ہوا۔ایک سال قبل ہی سلطان